بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت

by Other Authors

Page 9 of 64

بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت — Page 9

انطور جواب کچھ لکھنا تھا۔اس لئے انہوں نے حضرت محی الدین ابن عربی کا ایک اور قول بھی پیش کر دیا ہے کہ : یہ نبوت حیوانات میں بھی جاری ہے جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تیرے رب نے شہد کی مکھی کو وسعی کی " ر فتوحات مکیه جلد ۲ باب ۱۵۵ ص۲۵۲) اور اس پر لکھا ہے کہ حضرت ابن عربی گھوڑے گدھے ، بلی، چھپکی ، چو ہے، چمگارڈ ، اتو اور شہد کی مکھی وغیرہ حیوانات میں نبوت بھاری تسلیم کرتے ہیں۔شہد کی مکھی پر اُتو ، چمگادڑ وغیرہ حیوانات کا اضافہ تو مولوی لال حسین نے خود کیا ہے۔مگر ہم نے ہو عبادت حضرت بھی الدین ابن عربی رحمتہ اللہ علیہ کی پیش کی تھی اس کا تعلق حیوانات کو ملنے والی نبوت سے نہیں بلکہ اس نبوت سے ہے جو انسانوں کو آئندہ مل سکتی ہے مجھے وہ منقطع قرار نہیں دیتے۔حضرت محی الدین ابن عربی علیہ الرحمہ کا جو حوالہ نبوت کے بھاری ہونے کے متعلق ہمارے پمفلٹ میں پیش کیا گیا ہے۔اس کا تعلق اس نبوت سے ہے۔جسے حدیث لَمْ يَبْقَ مِنَ النُّبُوَّةِ الا المسيرات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی قرار دیا ہے۔حضرت ابن عربی علیہ الرحمہ کے نزدیک یہ نبوت " نبوة الولاية" کہلاتی ہے اور اس نبوت کے حامل کو وہ انبیاء الاولیاء کہتے ہیں نہ کہ النبی ریعنی صرف نبی ، اسی لئے حضرت محی الدین ابن عربی علیہ الرحمہ نے لکھا ہے کہ النبی کا نام کسی پر نہیں بولا جاتا کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وحی تشریعی اٹھ چکی ہے۔یہ احتیاط محض اسی بنا پر سکھلائی ہے کہ اُمت کے