بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت — Page 7
یعنی ہم نے تورات نازل کی کہ جس میں ہدایت اور نور تھا۔اسی تورات کے ذریعہ کئی نبی یہودیوں کے لئے علم تھے۔اس سے ظاہر ہے کہ ان بندگان اُمت کے نزدیک نبی صرف وہی نہیں جو شریعت لائے بلکہ غیر تشریعی نبی بھی واقعی نبی ہوتا ہے۔پس جب مولوی لال حسین صاحب کو مسلم ہے کہ فیر ٹر یہی نبی کی آمد کو ان بندگوں نے منقطع قرار نہیں دیا تو اس کے معنے یہ ہوئے کہ غیر تشریعی نبی کی آمد کو وہ ختم نبوت کے منافی نہیں سمجھتے۔اور یہی مذہب حضرت بانی سلسلہ احمدیہ اور جماعت احمدیہ کا ہے مگر اس شرط کے ساتھ کہ خاتم انبیین صلے اللہ علیہ وسلم کے ظہور پر اب الیسا غیر تشریعی نبی ہی آسکتا ہے جو ایک پہلو سے امتی بھی ہو۔یہ بزرگان دین ہے؟ حضرت عیسی علمی است نام کو بعد از نزول بلا شک ہی ہی مانتے ہیں اور آنحضر کیلے اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے تاریخ بھی قرار دیتے ہیں۔ہیں اصولی لحاظ سے ہمارے اور ان بزرگوں کے مذہعہد میں اتفاق ہے۔اختلاف صرف مسیح موعود کی شخصیت میں ے کہ مسیح موعود حضرت عیسی علیہ السلام ہیں، جن کا اصاللہ نزول مانا جاتا ہے یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی امتی فرد ہے جسے حضرت عیسی علیہ السلام کے رنگ میں رنگین ہونے یا مثل ہونے کی وجہ سے مجازا اور استعارہ احادیث نہو یہ میں عیسی نبی السر یا ابن مریم کا نام دیا گیا ہے ؟ خلاصہ کلام یہ کہ ہم میں اور ان بزرگوں میں مسئلہ نبوت میں اصولی طور پر اتفاق ہے۔مولوی لال حسین نے اپنے رسالہ کے صفحہ ، پر حضرت محی الدین ابن عربی آن کی ایک عبارت یوں نقل کی ہے :-