بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت — Page 62
نبی اللہ مانتے ہیں۔پس اب ہم میں اور مولوی لال حسین صاحب کے دا آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک امتی نبی کی آمدہ پر اتفاق ثابت ہوا۔اور اختلاف صرف شخصیت کی تعیین میں ہوا۔اگر وفات میسج کا مسئلہ قرآن و حدیث سے حل ہو جائے تو تمام نزاع دُور ہو جاتا ہے کہ امت محمدیہ کے مسیح موعود نبی اللہ حضرت عیسی علیہ السلام ہیں یا امت محمدیہ کا کوئی فرد ہے جو امتی نبی ہونے والا تھا ایسے بطور استفادہ عیسی ابن مریم کا نام دیا گیا ہے۔اللہ تعالے لوگوں کو سوچنے اور غور کرنے کا موقعہ دے اور اپنے فصل سے ان کی رہنمائی فرمائے۔اللہم آمین۔فیصلہ کن حدیث قدسی قدسی امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ اپنی کتاب کفایہ اللبيب في خصائص الحبيب المعروف بالخصائص الکبری میں ایک حدیث قدسی لائے ہیں جو اس بات میں فیصلہ کن ہے کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی امت میں نبی ہوگا۔حدیث ہذا یوں یوں وارد ہے :- وَاَخْرَجَ ابْوْنَعِيمٍ فِي الْحِلْيَةِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ أوحى الله إلى مُوسى نَبِيَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ إِنَّهُ مَنْ لَقِيَنِي وَهُوَ جَاهِدٌ بِأَحْمَدَ ادْخَلْتُهُ النَّارَ قَالَ يَا رَبِّ وَمَنْ اَحْمَدُ قال ما خَلَقْتُ خَلَقَا الرَمَ عَلَى مِنْهُ كَتَبْتُ اِسْمَهُ مَعَ اسْمِي فِي الْعَرْشِ قَبْلَ أَن يَخْلُقَ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ إِنَّ الْجَنَّةُ مُحَرَّمَةٌ عَلَى جَمِيْهِ خَلِي حَتَّى يَدْخُلَهَا وَامَتُهُ قَالَ وَمَنْ أُمِّتُهُ - قَالَ -