بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت

by Other Authors

Page 61 of 64

بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت — Page 61

41 میری مراد نبوت سے یہ نہیں ہے کہ میں نعوذ باللہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے مقابل پر کھڑا ہو کر نبوت کا دعوی کرتا ہوں یا کوئی شریعت لایا ہوں۔صرف مراد میری نبوت سے کثرت مکالمت و مخاطبت الہیہ ہے۔جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے حاصل ہے۔سو مکالمہ مخاطبہ کے آپ لوگ بھی قائل ہیں۔پس یہ صرف لفظی نزاع ہوئی۔یعنی آپ لوگ جس امر کا نام مکالمہ مخاطبہ رکھتے ہیں میں اس کی کثرت کا نام بموجب حکیم الہی نبوت رکھتا ہوں۔وَلِكُلِّ أَن يَصْطَلِحَ " (تتمہ حقیقة الوحی صنت ) علامه مسکیم صوفی محمد حسین صاحب مصنى غاية البريمان تحریر فرماتے ہیں : " الغرض اصطلاح میں نبوت خصوصیت الہیہ شہر دینے سے عبادت ہے۔وہ دو قسم پر ہے۔ایک نبوت تشریعی جو ختم ہو گئی۔دوسری نبوت بمعنی خبر دادن ہے۔وہ غیر انامل ہے ہیں اس کو مبشرات کہتے ہیں۔اپنے اقسام کے ساتھ اس میں رویا بھی ہیں۔" کواکب الدریہ صفحہ ۳۰ - ۱۳۸) حضرت بانی سلسلہ احمدیہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا دعوت نبوت مبشرات والی غیر تشریعی امتی نبوت کا ہی ہے نہ کہ تشریعی یا ستغللہ نبوت کا۔اور مسیح موعود کو اُمت محمدیہ اور خود مولوی لال حسین صاحب