بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت

by Other Authors

Page 43 of 64

بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت — Page 43

الْمُحَمَّدِهِ وَيُسْمَةٌ مُنتَجَةٌ مِنْهُ فَشَتَان بَيْنَهُ وَبَيْنَ الله من الأمة الظاهر الخير الكثير صك طبع بجنور مدینہ پرلیس) یعنی عوام یہ گمان کرتے ہیں کہ مسیح موعود جب زمین کی طرف نازل ہوگا تو ریس کی حیثیت محض ایک امتی کی ہوگی۔ایسا ہرگز نہیں بلکہ وہ تو اہم جامع مموری کی پوری تشریح اور دوسرا نسخہ ہوگا۔کہاں اس کا مقام اور کہاں محض امتی کا مقام ؟ دونوں میں عظیم الشان فرق ہے۔پس جس نبوت کے آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی وفات پر ختم ہو جانے کانی کر حضرت شاہ صاحب نے حجتہ اللہ البالغہ جلد ؟ میں کیا ہے وہ تشریعی اور مستقلہ نبوت ہی ہے نہ کہ غیر تشریعی غیر مستقله نبوت بغیر تشریعی نبوت کو تو آپ نے نبوت کی ایک جزء قرار دے کر باقی قرار دیا ہے اور مسیح موعود کو نبی تسلیم کیا ہے اور اُسے آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کا کامل مظہر ٹھہرا کہ عام امتی کے مقام سے اس کا مقام بلند قرار دیا ہے۔درمیانی زمانہ کے جن دعا جلہ کے دعوی نبوت کا ذکر حضرت شاہ صاحب نے کیا ہے۔مسیح موعود کی شخصیت اُن سے الگ قرار دی ہے۔پس تنضیمات الہیہ جلد ۲ صفحہ ۱۹۸ کا حوالہ جو دھا جلہ کے ذکر پر مشتمل ہے۔اس کا پیش کرنا مولوی لال حسین صاحب کو کوئی فائدہ نہیں دے سکتا۔