بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت

by Other Authors

Page 44 of 64

بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت — Page 44

حضرت مجدد الف ثانی عبد الرحمن کا قول ہمارے پمفلٹ میں لکھا گیا تھا کہ معہد و العب ثانی فرماتے ہیں :- "خاتم الرئيل عليه الصلوة والسلام کے مبعوث ہونے کے بعد خاص متبعین آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کو بطور وراثت کمالات نبوت کا حاصل ہونا آپ کے خاتم الرسل ہونے کے منافی نہیں۔یہ بات درست ہے۔اس میں شک مت کرو و مکتوب انه صفحه سوم مكتوب امام ربانی علیه الرحمه) کمالات نبوت میں مولوی لال حسین صاحب کے نزدیک نبوت شامل نہیں۔(حالانکہ نبوت بھی نبی کا ایک کمالی ہے ، اس لئے مولوی لال حسین صاحب مکتوب ۲۲ حصہ پنجم ۱۲۳ کی ایک عبارت کو اس سے جوڑ کر لکھتے ہیں :- " مرزائیوں کو کون سمجھائے کہ حضرت مجدد علیہ الرحمہ کے استاد کے پیش نظر حساب میں آسانی ، معمولی لغزشوں کی معافی ، درجات کی بلندی ، ملائکہ سے ملاقات اور کثرت ظہور خوارق ایسے کمالات نبوت حضور علیہ السلام کے وسیلہ محمدیہ کے برگزیدہ افراد کو عطا کئے جاتے ہیں۔یہ چند فضائل ہو کمالات اجزائے نبوت ہیں۔اور چند کیلات موت کے حصول کی سے نبوت نہیں مل جاتی۔شجاعت - سخاوت وغیرہ صفات بھی کمالات نبوت ہیں۔کیا ہر شجاع اور ہر سمتی نبی بھی جاتا ہے؟"