بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت

by Other Authors

Page 42 of 64

بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت — Page 42

۲۲ اب مزید سنئے۔شاہ صاحب موصوف اپنی کتاب الخير الكثير صفحه میں تحریر فرماتے ہیں : امنح أن يكون بَعْدَهُ نَبِي ، نقل بالشليه کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے بعد مستقل با تلقی نبی ہونے کا امتناع ہوا ہے۔اور یہی حضرت پانی سلسلہ احمدیہ کا مذہب ہے کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی مستقل نبی ظاہر نہیں ہو سکتا۔پھر حضر شاہ صاحب علیہ رحمۃ المستوى شرح الموطا امام مالک میں لکھتے ہیں: لان النبوة يتجن جَزَّى وَجُزْءٌ مِنْهَا بَاقٍ يَحْسَخَاتَمَ الأَنْبِيَا الميسونی جلد ۲ صفحه ۲۱۶ مطبوعہ دہلی)۔یعنی نبوت قابل تقسیم ہے اور نبوت کی ایک جز ( یعنی قسم - ناقل) حضرت خاتم الانبیاء کے بعد باقی ہے اور مسیح موعود کے متعلق اُن کا مذہب یہ ہے کہ وہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کا کامل مظہر ہوگا محض اتنی نہیں ہوگا دگو وہ حضرت علیہ السلام کے اصالتا نزول کے ہی قائل تھے کیونکہ ان پر یہ حقیقت نہیں کھلی تھی کہ مسیح موعود اممت محمدیہ کا ہی کوئی فرد ہوگا جو ان سے اللہ علیہ وسلم کا بروز ہو گا ) آپ لکھتے ہیں :- يَنْعَمُ الْعَلَمَةُ اَنَّهُ إِذَا نَزَلَ إِلَى الْأَرْضِ كَانَ وَاحِدًا مِنَ الأُمَّةِ كَلَّا بَلْ هُوَ شَرْحُ لِلإِسْمِ الجَامِع -