بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت — Page 60
ئے حضرت عیسی علیہ السّلام کو بعد از نزول وہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کا تابع امتی نبی مانتے ہیں۔پس اس قول میں علی الاطلاق دعوی نبوت کو کفر با جماع امت قرار نہیں دیا جاسکتا۔کیونکہ امت کی اکثریت مسیح موعود کے نبی اللہ ہونے پر یقین رکھتی ہے۔اور حدیث سيكون في أُمَّتِى كُنَّ ابُونَ ثَلَاثُونَ كُلُّهُمْ يَوْعَمُ انه نَبِيُّ وَأَنَا خَاتَمُ اللَّبِينَ لا نبی بعدی میں ان علماء کی تشریح کے لحاظ سے ایسے دعوی نبوت کو نہی آیت خاتم النبیین اور حدیث لا نبی بعدی کے خلاف قرار دیا گیا ہے۔جو تشریعی یا مستقلہ نبوت کا دعوی ہو۔اس حدیث میں تعالی نبی کا دعوی کرنے والوں کو کذاب دقال قرار دیا گیا ہے نہ کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے تابع امتی نبوت کا جھوٹی کرنے والوں کو۔اور یہ حقیقت ہے کہ جتنے اقبال کذاب مدعی نبوت انت میں گزرے ہیں ان میں سے کسی نے بھی امتی نبوت کا دعوی نہیں کیا لیکن مسیح موعود علیہ السلام کا دعویٰ کیونکہ امتی نبوت کا ہے۔اور ساری امت مسیح موعود کو امتی نبی مانتی آئی ہے۔اس لئے یہ دعوی اس حدیث کے خلاف نہیں۔اللهم احهِ قَوْمى فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام باقی جماعت احمدیہ نہاتے ہیں " یہ کہنا کہ نبوت کا دعویٰ کیا ہے کس قدر جہالت کسی قدر حماقت اور کس قدر حق سے خروج ہے۔اے نادانو !