بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت

by Other Authors

Page 59 of 64

بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت — Page 59

النبیین کے یہ معنی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آسکتا جو آپ کی شریعت کو منسوخ کرے اور آپ کی اُمت میں سے نہ ہو۔پس ملا علی القاری رحمتہ اللہ علیہ کی اس دوسری توجہ کے لحاظ سے حدیث ندا امتی نبی کی آمد کے امکان کے خلاف نہیں کیونکہ اس توجیہہ سے امتی نبی کا آتا نہ آیت خاتم النبیین کے خلاف ہے اور نہ حدیث لانبی بعدی کے کیونکہ یہ آیت اور حدیث ان کے نزدیک صرف تشریعی اور مستقل نبی کی آمد میں مانع ہے امتی نبی کی آمد میں مانع نہیں خواہ امام علی القاری بیج حضرت عیسی علیہ السلام کے کسی امتی نبی کا آنا مانتے ہوں یا نہ مانتے ہوں۔حضرت عیسی علیہ السلام کی آمد ثانی بھی ان کے نزدیک اسی وجہ سے ممکن ہے کہ وہ تابع شریعت محمدیہ ہوں گے نہ کہ شارع اور مستقل بالفعل نہی۔پھر مولوی لال حسین صاحب اختر نے امام علی القاری کا ایک قول یوں نقل کیا ہے :- دَعْوَى النُّبُوَّةِ بَعْدَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم كفر بالاجماع " (شرح فقہ اکبر م ) بِالْإِجْمَاعِ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ اجماعی طور پر گھر ہے۔حضرت امام علی القاری کے اس قول میں اوپر کے اقوال کی روشنی میں دعوی نبوت تشریعہ و مستقلہ ہی مراد ہے اور ایسا دعویٰ یقینا کفر ہے۔اسی تران در زد