بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت — Page 10
نہی الاولیاء کے لئے اللہی کے لفظ کے استعمال سے لوگوں کو یہ شبہ ہو سکتا تھا کہ مدعی کا دعوی تشریعی نبوت کا ہے اور اس طرح وہ غلطی میں پڑ سکتے تھے چنانچہ وہ النبی کا نام اللہ جانے کی وجہ یوں لکھتے ہیں :- لان لا تميل متخيل ان العليق لهذا اللفظ يُرِيدُ لمرة التَّشْرِيعِ فَيَخْلُطَ یعنی تا یہ خیال پیدا نہ ہو کہ اس لفظ کا بولنے والا تشریعی نبوت کا مدگی ہے اور اس طرح اس کے متعلق غلطی واقع ہو جائے ورنہ غیر تشریعی انیسیاء کو اصحاب نبوة مطلقہ قرار دے کر اُن کے لئے انبیاء الاولیاء کے الفاظ وہ خود استعمال کرتے ہمیں دیکھئے فتوحات مکیہ صفحہ ۸۷۹) آپ میں نبوت الولایت کو محد ثمین امت محمدیہ اور غیر تشریعی انبیاء بنی اسرائیل میں مشترک سمجھتے ہیں۔چنانچہ وہ مسیح موعود کے متعلق بھی لکھتے ہیں :- يَنْرَى وَلِيًّا ذَا نَبُوةٍ مُطْلَقَةٍ يَشْرِكْهُ فِيهَا الْأَوْلِيَاء المُحَمَّدِيُونَ فَهُوَ مِنا وسيدنا و فتوحات مکیه جلد ۲ مثا) یعنی وہ ایسے ولی کی صورت میں نازل ہونگے جو نبوت مطلقہ رکھتا ہوگا۔جس میں محمد سی او لیا ہو بھی سٹریک ہیں۔اس سے ظاہر ہے کہ ان کے نزدیک نبی الاولیا ا ثبوت مطلقہ کا بھی حامل ہوتا ہے کیونکہ عیسی علیہ السلام کا بعد از دول، با وجود غیر تشریعی ہونے کے بلاشک نبی ہونا انہیں مسلم ہے جیسا کہ پہلے مذکور ہوا۔اور مندب بر بالا حوالہ میں موج انہیں صاحب نبوت مطلقہ ولی قرار دے رہے ہیں۔ļ