بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت — Page 11
این ضروری تمہید کے بعد اب ہم علی الترتیب ان حوالوں کے متعلق بحث کرتے ہیں جن کے پیش کرنے کو مولوی لال حسین صاحب نے احمدیوں کا کذب افتراء قرار دیا ہے۔۔لَوْ عَاشَ إِبْرَاهِيمُ لَعَانَ صِدِّيقَا نَبِيَّا یہ حقیقت اپنی جگہ ثابت ہے کہ ابن ماجہ کی اس حدیث کے یہ کلمات آنحضر صلے اللہ علیہ وسلم نے آیت خاتم النبیین کے نزول سے پارکی سال بعد اپنے فرزند ابراہیم کی وفات پر اُن کی شان کے متعلق بیان فرمائے تھے۔ان سے ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک آیت خاتم النبیتین امت میں نبی آنے کے متعلق روک نہ تھی۔بلکہ صرف صاحبزادہ ابراہیم کی وفات اُن کے نبی ہننے میں روک بنی ہے ورنہ ان میں فطری استعداد نہی پہننے کی موجود تھی۔اگر آیت خاتم النبیین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک ہر قسم کے نبی کے آنے میں مانع ہوتی۔تو آپ بجائے ان الفاظ کے یہ فرماتے - شیپور لَوْ عَاشَ لَمَا كَانَ نَبِيًّا لِأَنِّي خَاتَمُ النَّبِيِّينَ کہ اگر ابراہیم زندہ بھی رہتا تو بھی نبی نہ ہوتا کیونکہ میں خاتم النبیین ہوں۔گو یہ حدیث اُمت میں نبوت کے امکان پر روشن دلیل تھی۔مگر بعض لوگوں نے غلط فہمی سے اس حدیث کو ضعیف کہہ کر رو کرنے اور باطل قرار دینے کی کوشش کی ہے۔چنانچہ نووی اور ابن عبدالبر اور شیخ عبد الحق صاحب محدث دہلوی کے اقوال سے مولوی لال حسین صاحب اختر نے اس حدیث کو کو