بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت — Page 20
کہ اگر لا تقولوا لا نبی بعدہ حضرت ام المومنین کا مقولہ ثابت ہو جائے" مولوی لال حسین امام محمد طاہر کے قول میں یہ الفاظ تا قیامت نہیں دکھا سکتے اور یقینا نہیں دکھا سکتے ہیں ان کے الفاظ محض جھوٹ اور بہتان ہیں۔کیونکہ امام محمد طاہر نے ایسا ہر گز نہیں فرمایا کہ "اگر لا تقولوا لا نبی بعد کا حضرت ام المومنین کا مقولہ ثابت ہوا مولوی لال حسین صاحب اپنے ڈیکٹ کے منہ ہم مولوی لال حسین کی تعلی رکھتے ہیں۔جمله قولوا انه خاتم الانبيار ولا تقولوا لا نبی بعدہ کی حضرت ام المومنین کی طرف نسبت یہ ایسا قول ہے کہ دنیا کی کسی مستند کتاب میں اس کی سند نہیں اور حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا تک اس قول کی سند دکھا دو تو دس ہزار روپیا نعام تو یہ الجواب : مولوی لال حسین صاحب پر واضح ہو کہ حضرت ام المومنین رضی اعد عنہا کا یہ قول ہرگز بے سند نہیں بعضرت امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب الدر المنشور میں زیر آیت خاتم النبیین اس قول کو یوں درج فرمایا ہے :- " أخرج ابن ابى شيبة عن عائشة قولوا خاتم الانبياء و لا تقولوا لا نبي بعدة " حضرت امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ کو اپنے زمانہ کا محمد تسلیم کیا جاتا ہے۔ان کی مندرجہ بالا عبادت سے ظاہر ہے کہ یہ عبادت بے سند نہیں بلکہ اس کی تھری کے محدث ابوبکر عبد المعد بن ابی شیبہ نے حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کی ہے۔پھر امام صاحب موصوف اپنی تفسیر الله المنشور جلد اول کے شروع میں تحریر فرماتے ہیں:-