بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت — Page 21
۲۱ جب میں نے کتاب ترجمان القرآن" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی سند سے تالیف کی اور وہ محمد ا لنر کئی جلدوں میں پوری ہوئی۔تو میں نے دیکھا کہ اکثر لوگوں کی ہمتیں اس کی تحصیل سے قاصر ہیں۔اور وہ استاد کے بغیر صرف منون اثر (الفاظ روایت) کی رغبت رکھتے ہیں تو میں نے اس مختصر ( الدر المنثور) کو تفسیر ترجمان القرآن سے شخص کیا ہے۔اس میں صرف روایات کے متن پر اختصار کیا ہے اور ان کی سند کے متعلق تہر معتبر کتاب کا جس میں اس کی تخریج ہوئی ہے حوالہ دے دیا ہے۔اور اس کا نام الدر المنثور في التفسير بالماثور (ترجمہ) لکھا ہے" ہ اس سے ظاہر ہے کہ حضرت امام جلال الدین سیوطی نے الدر المنشور کی تمام سلامیات" ترجمان القرآن" میں باسند درج کی ہیں۔اور الدر المنشور میں صرف یہ بتا دیا ہے کہ اس روایت کی تخریج کس کتاب میں ہوئی ہے۔پس مولوی لال حسین صاحب کا اس روایت کو بے سند قرار دینا ان کی نا واقعی اور لاعلمی کی دلیل ہے۔در اصل حضرت امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ پر بہتان عظیم ہے کہ انہوں نے یہ ریوراست بے سند درج کی ہے۔کیا مولوی لال حسین صاحب حضرت امام جلال الدین سیوطی علیه گرفته -۔اور کی کا منہ بال بیان پڑھنے کے بعد بھی اپنے اس انعامی چیلینج پر قائم ہیں۔دیدہ باید خاب رہی یہ بات کہ امام محمد طاہر علیہ الرحمہ نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ کے قول کے متعلق اپنا یہ خیال ظاہر کیا ہے :- دهار هذَا نَاظِتُ إِلى نُزُولِ عِيسَى"