بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت — Page 19
19 بعدی کی حدیث کی موجودگی میں وہ کیوں فرمائیں کہ تم لاني بحدة ان کیا کر دو۔کیا جو بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی۔اس کے نے اسے حضرت ام المؤمنین رضی اللہ عنہ منع فرماتی ہیں ؟ ہرگزہ نہیں۔اصل حقیقت یہ ہے کہ لانبی بعدی کے ایک معنیٰ سے جو یہ ہو سکتے ہیں که نمیرے بعد مطلق کوئی نبی نہیں بوجہ غلط معنے ہونے لیے امت کو ضرور ٹھوکر لگ سکتی تھی۔کیونکہ صحیح معنیٰ اس کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک یہ تھے کہ آپ کے بعد کوئی مستقل نبی نہیں آئے گا اس لیئے احتیاطاً حضرت ام المومنین سے مسلمانوں کو منا تم الانبیاء کہنے کی ہدایت فرمائی اور لا نبی بعد کی کہنے سے منع فرما دیا۔تشریحی نوٹ کے الفاظ کا اصل قول سے دکھانا لازم نہیں آتا۔جناب مولوی لال حسین صاحب نے امام محمد طاہر کے قول کو اپنے یکٹ کے صفحہ ۱۱ (۲) پر درج کرنے کے بعد اس کے متعلق یہ لکھا ہے:۔" واضح بیان ہے کہ اگر لا تقولوا لا نبي بعده حضرت ام المومنین کا مقولہ ثابت ہو جائے تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا آسمان سے نزول ہوگا۔ان کا تشریف ان الان حدیث لانبی بعدی کے خلاف نہیں۔اس لئے حدیث کا مطلب کیا ہے کہ ایسا نہیں نہیں آسکتا جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو منسوخ کردے؟ خط کشید و الفاظ بداری مالی حسنین کا امام محمد طاہر علیہ الرحمہ پر افترار ہیں۔لوی