مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 14
ہے وہ صرف تشریعی نبوت ہے نہ کہ مقام نبوت۔پس اب کوئی شرع نہ ہوگی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شرع کی ناسخ ہو اور نہ آپ کی شرع میں کوئی حکم بڑھانے والی شرع ہوگی۔اور یہی معنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کے ہیں کہ اِنَّ الرَّسَالَةَ وَالنُّبُوَّةَ قَدِ انْقَطَعَتْ فَلَا رَسُوْلَ بَعْدِي وَلَا نَبِيَّ یعنے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ( اس قول سے ) یہ ہے کہ اب ایسا کوئی نبی نہیں ہوگا جو میری شریعت کے مخالف شریعت پر ہو بلکہ جب کبھی کوئی نبی ہوگا تو وہ میری شریعت کے حکم کے ماتحت ہوگا۔پھر فرماتے ہیں :۔(ب) فَمَا ارْتَفَعَتِ النُّبُوَّةُ بِالْكُلِّيَةِ لِهَذَا قُلْنَا إِنَّمَا ارْتَفَعَتْ تبوةُ التَّشْرِيعِ فَهَذَا مَعْلَى لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ (فتوحات مکیہ جلد ۲ صفحه ۶۴) ترجمہ :۔پس نبوت کلّی طور پر نہیں اٹھی۔اسی لئے ہم نے کہا ہے کہ صرف تشریعی نبوت اٹھی ہے اور یہی معنی حدیث لا نبی بعدی کے ہیں۔خاتم النبیین کے معنی بھی ان کے نزدیک آخری شارع نبی ہیں چنانچہ وہ فرماتے ہیں:۔(ج) وَمِنْ جُمْلَةِ مَا فِيهَا تَنْزِيلُ الشَّرَائِعِ فَخَتَمَ اللهُ هَذَا التَّنْزِيلَ بِشَرْعِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ خَاتَمَ النَّبِيِّينَ (فتوحات مکیہ جلد ۲ صفحه ۵۵-۵۶) یعنی آغاز وانجام والی اشیاء میں سے شریعتوں کا نازل کرنا بھی ہے۔اللہ تعالیٰ نے شریعت کے اتارنے کو مالی اما اینم کی شرع سے ختم کر دیا ہے پس آپ خاتم النبیین ہیں۔پھر شیخ اکبر علیہ الرحمۃ نبوت مطلقہ کو جاری قرار دینے کے لئے لکھتے ہیں: 14