مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 71
متعلق آسمانی نشان جو رمضان شریف میں چاند اور سورج کے گرہن کی صورت میں ظاہر ہوا وہ ایک طرح سے آسمانی آواز ہی تھی جو بتا رہی تھی کہ خدا تعالیٰ کا خلیفہ مہدی آچکا ہے اس کی سُنو اور اطاعت کرو۔مگر افسوس ہے کہ مودودی صاحب کے روحانی کان اس کے سُننے سے محروم رہے۔علاوہ ازیں کئی احمد یوں کو الہامی طور پر یہ خبر دیا جانا کہ امام آخر الزمان کا ظہور ہو چکا ہے آسمانی آواز ہی ہے جو انہوں نے اپنے دل کی گہرائیوں میں سنی۔اس موقعہ پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم دجال کے ظہور اور مسیح ابن مریم کے نزول کے متعلق احادیث کی اہم باتوں کی تعبیرات بھی لکھ دیں۔دجال کے ظہور اور نزول مسیح کی احادیث کی صحیح تعبیرات (1) مسیح ابن مریم کے نزول سے ان کے کسی مثیل کا آسمانی تائید کے ساتھ آنا مراد ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مکاشفہ میں ان کا دوفرشتوں کے پروں پر ہاتھ رکھے اُترتے دکھائی دیئے جانے کی تعبیر یہ ہے کہ مثیل مسیح کو ملائکہ کی تائید حاصل ہوگی۔(۲) صبح کے وقت نازل ہونے سے مراد یہ ہے کہ مسیح موعود کا ظہور ایسے وقت ہوگا جبکہ اسلام سے تاریکی کا دور دور ہونے اور اُس کی نشاۃ ثانیہ کا وقت آجائے گا۔(۳) مسلمانوں کے صبح کی نماز کی تیاری کے وقت مسیح کے نازل ہونے سے یہ مراد ہے کہ مسیح موعود کی آمد سے پہلے مسلمانوں کی ایک جماعت خدمتِ اسلام کے لئے آمادہ ہوگی اور اس کی منتظر ہوگی اور اس کے دعوی کرنے پر اسے اپنا امام تسلیم کرلے گی۔مسیح موعود کا اس وقت یہ کہنا کہ فَرَّجُوْا بَيْنِي وَبَيْنَ عَدُوّ الله “ سے یہ مراد ہے کہ یہ جماعت دجال سے مقابلہ کرنا چاہتی ہوگی مگر اپنے طریق پر اس کے مقابلہ کے قابل نہیں ہوگی۔اس لئے دجال کے مقابلہ میں مسیح موعود 71