مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 70
قبولیت ایسی عظمت نہیں مل جاتی جو کسی نبی کو حاصل نہیں ہوئی حتی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی یہ عظمت (نعوذ باللہ ) حاصل نہ ہوئی کہ ان کی قوم نے بلا مقابلہ انہیں قبول کر لیا ہو؟ مودودی صاحب کی بے اصولی پس مودودی صاحب کا دجال اور نزولِ مسیح کے متعلق یہ سارا مضمون ان کے اپنے مسلمات اور مسلک کے خلاف ہے اور ان کے بے اصولے پن کا ایک شاہکار ہے۔ہمارا مسلک احادیث کے متعلق ہمارا مسلک ایسی احادیث کے متعلق جو اخبار غیبیہ پر مشتمل ہیں کسی بے اصولی پر مبنی نہیں چونکہ احادیث جو اخبار غیبیہ پر مشتمل ہیں وحی خفی یعنی مکاشفات سے تعلق رکھتی ہیں اس لئے ایسی احادیث مکاشفات اور رویائے صالحہ کی طرح تعبیر طلب ہوتی ہیں اور ہم ان کی ایسی تعبیرات کرتے ہیں جن سے عقلی آزمائش اور امتحان باقی رہے اور يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ کا ثواب اُٹھ نہ جائے اور سنت اللہ اور حکمت خداوندی قائم رہے۔اگر کسی جگہ دو یا زیادہ حدیثیں بظاہر مختلف مضمون بیان کرتی ہوں تو ہم ان میں تطبیق دینے کی کوشش کرتے ہیں۔اور اگر ایسی حدیثوں میں تطبیق نہ دی جاسکتی ہو تو پھر ہم اقرب الی الصواب کو ترجیح دیتے ہیں۔ہم اخبار غیبیہ پر مشتمل احادیث کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہونے کی وجہ سے استخفاف پسند نہیں کرتے جیسا کہ مودودی صاحب نے کانا دجال کے ذکر پر مشتمل احادیث کو افسانہ قرار دیا ہے جو صریح استخفاف ہے۔مودودی صاحب نے تو ھذا خلیفة الله المهدی کی حدیث کو رڈ کر دیا ہے مگر ہم اسے بھی صحیح حدیث سمجھتے ہیں۔کیونکہ احمدیوں کے نزدیک امام مہدی کے 70