مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ

by Other Authors

Page 72 of 108

مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 72

اپنے تئیں پیش کر دے گا اور اس کی دلیل کے حربہ سے دجالی تحریک ختم ہوگی۔یہی دقبال کا قتل ہے۔(۴) دمشق کے مشرق میں سفید مینارہ کے پاس نزول کی تعبیر وہ مقام ہے جہاں مسیح موعود کا ظہور ہونے والا تھا۔قادیان کا نورانی مقام دمشق سے مشرق میں ہی واقع ہے جہاں سے مسیح موعود نے دعویٰ کیا ہے۔اس تعبیر سے دمشق کے مشرق میں مسیح کے نازل ہونے والی حدیث اور مدینہ منورہ کے مشرق میں دجال کے ظاہر ہونے کی دونوں حدیثوں میں تطبیق ہو جاتی ہے ورنہ دمشق مدینہ منورہ سے مشرق میں نہیں۔ان حدیثوں کے مطابق مسیح موعود کو دجال کا مقابلہ ایسے مقام سے کرنا چاہیے جو دمشق سے بھی مشرق میں ہو اور مدینہ منورہ سے بھی مشرق میں ہو اور یہ مقام ہندوستان اور اس کا صوبہ پنجاب ہے۔پس اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی تحریک ہندوستان سے ہی شروع ہونے والی تھی جو مذاہب کی منڈی تھی اور یہ خصوصیت کسی اور ملک کو حاصل نہ تھی کہ اس میں سب مذاہب پائے جائیں۔دمشق کے مشرق میں سفید مینارہ کے پاس صحیح کے نزول کی حدیث ایک طرح سے ظاہری الفاظ میں بھی پوری ہو چکی ہے کیونکہ ۱۹۲۴ء میں سیدنا حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمدخلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے سفر مشتق میں اس سفید مینارہ کے پاس نزول اجلال فرمایا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات میں آپ کے اس فرزند موعود کو بھی ایک مسیح قرار دیا گیا ہے۔نیز نائب کے ذریعہ کسی پیشگوئی کا پورا ہونا بھی منیب کے ہاتھ سے ہی پورا ہونا سمجھا جاتا ہے جیسے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں آپ کے ایک مکاشفہ میں قیصر و کسری کے خزائن کی چابیاں دی گئیں مگر یہ پیشگوئی حضرت عمرؓ کے ہاتھ پر ان کی خلافت کے زمانہ میں پوری ہوئی ( صحیح بخاری جلد ۴ صفحہ ۱۵۱ باب رؤیا الیل ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام قبل ازیں اس کی تعبیر میں فرما چکے تھے ثُمَّ يُسَافِرُ الْمَسِيحُ الْمَوْعُودُ أو خليفةٌ مِنْ خُلَفَائِهِ إلى أرض دمشق (حمامۃ البشری صفحہ ۳۷) 72