مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ

by Other Authors

Page 45 of 108

مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 45

نہیں۔اور اگر مجازی معنے لئے جائیں تو خاتم الانبیاء ان معنوں سے ذاتی طور پر دوسروں سے کوئی فضیلت نہیں رکھے گا کیونکہ محض آخری ہونا بالذات کسی فضیلت کو نہیں چاہتا۔آگے مفردات راغب میں اسی جگہ بندش اور بلوغ الآخر کے معنوں کو ختم کے مصدری معنوں سے تجو زقرار دیا گیا ہے اور ( تفسیر بیضاوی کے حاشیہ پر خَتَمَ اللهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ کی تفسیر میں یہ نوٹ دیا گیا ہے:۔66 فَاطَلَاقُ الْخَتمِ عَلَى الْبُلُوغِ وَالْإِسْتِيثَاقِ مَعْلَى مَجَازِ “ ( حاشیہ تفسیر بیضاوی) یعنی لفظ ختم کا آخری اور بندش کے معنوں میں استعمال مجازی معنی ہیں اور مجازی معنے تب مراد ہوتے ہیں جب حقیقی معنے محال ہوں۔ہم آیات قرآنیہ سے حقیقی معنوں کی تائید دکھا چکے ہیں۔مودودی صاحب نے لغت سے جو حوالے پیش کئے ہیں وہ صرف ختم کے مجازی معنے بتاتے ہیں جیسے ختم الاناء و خاتم القوم وغیرہ کے معنی۔مودودی صاحب کا حقیقی معنوں کو چھوڑ کر مجازی معنوں کی طرف رجوع کرنا ان کی کسی اچھی نیت اور تحقیق پر دال نہ ہونے کی وجہ سے عملاً حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک شان اور خاتم الانبیاء کے حقیقی معنی سے انکار کے مترادف ہے لیکن وہ ” بکف چراغ دارد کی مثل کے مطابق اُلٹا جماعت احمدیہ کومنکر ختم نبوت قرار دے رہے ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سچے دل سے لغت عرب کے حقیقی اور اصلی معنوں میں بھی خاتم النبیین یقین کرتی ہے اور ان معنوں کے بالشبع حضور علیہ السلام کو افضل النبیین اور آخری شارع اور آخری مستقل نبی بھی یقین کرتی ہے۔45