مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 61
امید ہے کہ مودودی صاحب اب اپنے مضمون پر نظر ثانی کر کے اپنے خیالات میں اصلاح فرمالیں گے اور یہ تسلیم کر لیں گے کہ محض اصلاح کے لئے بھی نبی آسکتا ہے۔بنی اسرائیل میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد جو نبی آئے وہ سب اصلاح خلق کے لئے مبعوث ہوتے رہے جیسے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔إِنَّا أَنْزَلْنَا التَّوْرَيةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ، يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الذين أسلموا اللذين هادوا (مائده رکوع ۷) یعنی بے شک ہم نے تورات نازل کی جس میں ہدایت اور نور ہے۔اس تورات کے ذریعہ کئی نبی جو خدا تعالیٰ کے فرماں بردار تھے یہودیوں کے لئے بطور حکم کام کرتے تھے۔مسیح موعود کی شان میں بھی حدیث نبوی میں حَكَم و عدل کے الفاظ وارد ہیں۔اگر حکمیت اصلاح خلق کے مترادف نہیں تو مودودی صاحب یوں سمجھ لیں کہ پانچویں قسم کا نبی بشانِ حکمیت آتا ہے اور مسیح موعود کی نبوت بھی جو حدیثوں میں بیان ہوئی ہے وہ بھی بشانِ حکمتیت ہے۔پس بشانِ حکمیت نبی کا آنا جبکہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی ہو،نبوت کی ایسی قسم ہے جو آیت خاتم النبیین کے منافی نہیں۔اگر یہ منافی ختم نبوت ہوتی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہ مسیح موعود کو امتی نبی قرار دیتے نہ موسیٰ علیہ السلام کے بعد آنے والے نبیوں کی طرح اُسے امت محمدیہ میں حکم کی حیثیت میں آنے والا بیان فرماتے۔فتدبر وا یا اولی الابصار مسیح موعود اور دجال کی حقیقت (ل) دجال کے ظہور اور مسیح بن مریم علیہ السّلام کے نزول کے متعلق اکیس " احادیث درج 61