مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 62
کرنے کے بعد جو در حقیقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مکاشفات پر مشتمل ہونے کی وجہ سے تعبیر طلب ہیں ، مودودی صاحب لکھتے ہیں :۔آخری بات جو ان احادیث سے اور بکثرت دوسری احادیث سے بھی معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ دقبال جس کے فتنہ عظیم کا استیصال کرنے کے لئے حضرت عیسی بن مریم علیہ السلام کو بھیجا جائیگا یہودیوں میں سے ہوگا اور اپنے کو سیح کی حیثیت میں پیش کریگا آج تک دُنیا بھر کے یہودی اس مسیح موعود کے منتظر ہیں جس کے آنے کی خوشخبریاں ان کو دی گئی تھیں۔اس کی خیالی لذت کے سہارے صدیوں سے یہودی جی رہے ہیں اور یہ امید لئے بیٹھے ہیں کہ یہ مسیح موعود ایک جنگی اور سیاسی لیڈر ہوگا جو دریائے نیل سے دریائے فرات تک کا علاقہ (جسے یہودی اپنی میراث سمجھتے ہیں) انہیں واپس دلائے گا اور دنیا کے گوشے گوشے سے یہودیوں کو لا لا کر اسی ملک میں پھر سے جمع کر دے گا۔اب اگر کوئی شخص مشرق وسطی کے حالات پر ایک نگاہ ڈالے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشن گوئیوں کے پس منظر میں ان کو دیکھے تو وہ یہ فوراً محسوس کریگا کہ اس دجال اکبر کے لئے اسٹیج بالکل تیار ہو چکا ہے جو حضور کی دی ہوئی خبروں کے مطابق مسیح موعود بن کر اُٹھیا۔۔۔اس مسیح دجال کے مقابلہ کے لئے اللہ تعالیٰ کسی مثیل مسیح کو نہیں بلکہ اصلی مسیح کو نازل فرمائے گا۔مسیح دجال ستر ہزار یہودیوں کا لشکر لے کر شام میں گھسے گا اور دمشق کے سامنے جا پہنچے گا ٹھیک اس نازک موقعہ پر دمشق کے مشرقی حصے میں سفید مینار کے قریب ( اور یہ سفید مینار اس وقت وہاں موجود ہے) حضرت عیسی ابن مریم صبحدم نازل ہوں گے اور نماز فجر کے بعد مسلمانوں کو 62