مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 4
بلکہ آسمانی ہے۔ہمیں تو گمراہی میں تمہاری اور تمہارے نبیوں کی پیشگوئیوں نے ڈالا ہے۔اب تمہیں ہمارے مسیح کا انکار کرنے پر مواخذہ کا کوئی حق نہیں۔سوال نمبر 1 کیا مودودی صاحب بتا سکتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے سامنے ایسا ریکارڈ پیش کرنے پر یہودی حضرت عیسی علیہ السلام کی مسیحیت و نبوت کا انکار کر کے مواخذہ الہی سے بری ہو سکتے ہیں؟ اگر نہیں تو پھر وہ اپنا مزعومہ ریکارڈ پیش کر کے اور آیت خاتم النبیین کے قرآن مجید اور بعض احادیث نبویہ کے خلاف معنی کر کے کس طرح مؤاخذہ سے بری ہو سکتے ہیں۔ان کا یہ مزعومہ ریکارڈ ہرگز ان کی تائید نہیں کرے گا۔بلکہ خدا تعالیٰ انہیں قرآنی آیات اور احادیث نبویہ پیش کر کے ملزم کردے گا کیونکہ قرآن مجید کی روشنی میں صرف تشریعی نبوت اور مستقلہ نبوت کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ انقطاع ہوا ہے نہ کہ امتی نبوت کا۔امتی نبوت کے امکان کے ثبوت میں قرآن مجید اور احادیث کی کئی نصوص موجود ہیں۔جب اللہ تعالیٰ ان آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ کا ریکارڈ ان کے سامنے رکھ دے گا تو معلوم نہیں اس وقت مولوی ابوالاعلیٰ صاحب مودودی کا خدا کے حضور کیا جواب ہوگا۔یہ جواب ہم ان سے اب سُننا چاہتے ہیں وہ ذیل کے ریکارڈ کو پر نظر رکھ کر اپنا جواب دیں جوابی ریکارڈ (1) اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے:۔وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولبِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصَّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّلِحِينَ وَحَسُنَ أُولَبِكَ رَفِيقًاه (سوره نساء رکوع ۹) 4