مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ

by Other Authors

Page 3 of 108

مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 3

ہو سکتا ہے۔وہ قیامت کے روز ہم سے پوچھے گا تو ہم سارا ریکارڈ برسر عدالت لا کر رکھ دیں گے جس سے ثابت ہو جائے گا کہ معاذ اللہ اس کفر کے خطرے میں تو اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت نے ہی ہمیں ڈالا تھا۔ہمیں قطعاً کوئی اندیشہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں کسی نئے نبی پر ایمان نہ لانے کی سزا دے ڈالیگا‘ ختم نبوت صفحہ ۳۳) مولوی مودودی صاحب کی یہ کیسی جسارت ہے کہ خدا تعالیٰ امت محمدیہ میں نبی بھیجے تو وہ اس کا انکار کر کے یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کی کتاب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر الزام دے کر خدا تعالیٰ کو اُن کے مواخذہ سے عاجز کر دیں گے۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ گر تو قرآں بریں نمط خوانی بری رونق مسلمانی یہودیوں کا ریکارڈ اگر اس قسم کا عذر خدا تعالیٰ کے حضور درست ہو اور ایسے لنگ عذرات پر انسان خدا کو مؤاخذہ سے عاجز کر سکتا ہو تو یہودی بھی بعینہ خدا تعالیٰ کے حضور اس قسم کا ریکار ڈ ا پنی بریت کے لئے پیش کر سکتے ہیں اور وہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے تمہارے بھیجے ہوئے یسوع مسیح کو اس لئے قبول نہیں کیا تھا کہ ہماری مسلمہ کتاب سلاطین میں لکھا تھا کہ ایلیاء نبی بگولے میں ہو کر زندہ آسمان پر چلا گیا ہے (۲ - سلاطین باب ۲ آیت (۱۲) اور ملا کی نبی کی کتاب میں مسیح کے ظہور سے پہلے ایلیاہ کا آنا ضروری قرار دیا گیا ہے ( ملا کی باب ۴ آیت ۶ ) ہم نے یسوع کی اس تاویل کو کہ ایلیاہ کی دوبارہ آمد سے یوحنا (سکی علیہ السلام ) کا ایلیاہ کے مثیل کے طور پر آنا مراد ہے قبول نہیں کیا تھا کیونکہ ہماری کتابوں میں صریح طور پر ایلیاہ کے آسمان پر جانے اور موعود مسیح سے پہلے دوبارہ آنے کی پیشگوئی موجود تھی۔نیز پیشگوئیوں میں یہ بھی لکھا تھا کہ خداوند خدا مسیح کو اس کے باپ داؤد کا تخت دے گا مگر یسوع کہتا تھا کہ میری بادشاہت اس دنیا کی نہیں 3