مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 5
یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ( محمد مصطفی اصلی اللہ علیہ وسلم ) کی اطاعت کریں پس وہ ان کے ساتھ شامل ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا ہے یعنی نبی صدیق شہید اور صالح اور یہ ان کے اچھے ساتھی ہیں۔اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے ایک انسان صالحیت کے مقام سے ترقی کر کے نبوت کے مقام تک پہنچ سکتا ہے اگر آیت کے یہ معنی کئے جائیں کہ خدا تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنے والے صرف ظاہری طور پر نبیوں کے ساتھ ہوں گے نبی نہیں ہونگے تو یہی تشریح دوسرے تین مدارج کے بارے میں بھی کرنا پڑے گی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروصرف بظاہر صد یقوں،شہیدوں اور صالحین کے ساتھ ہوں گے خود صدیق ، شہید اور صالح نہیں ہوں گے۔یہ تشریح صحیح نہیں کیونکہ یہ معنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ بزرگ کے صریح منافی ہیں کہ ان کی پیروی سے کوئی شخص صدیق شہید اور صالح بھی نہیں ہو سکتا بلکہ صرف ظاہری طور پر ان کے ساتھ ہوگا حالانکہ امت محمدیہ کے اطاعت کرنے والوں کا اس دُنیا میں زمانی اور مکانی طور پر پہلے انعام یافتہ لوگوں کے ساتھ ہونا امر محال ہے اور آیت فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ جملہ اسمیہ ہے جو استمرار پر دلالت کرتا ہے یعنی اس دنیا میں ان کے ساتھ ہونا بھی ثابت کرتا ہے پس اس دنیا میں ساتھ ہونے میں مرتبہ پانا ہی مراد ہوسکتا ہے۔امام راغب کی تفسیر ہمارے انہی معنوں کی تائید امام راغب علیہ الرحمہ کی تفسیر سے بھی ہوتی ہے تفسیر بحر المحیط میں لکھا ہے :- وَالظَّاهِرُ أَنَّ قَوْلَهُ مِنَ النَّبِيِّينَ تَفْسِيرُ لِلَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ فَكَأَنَّهُ قِيْلَ مَنْ يُطِعِ الله وَالرَّسُولَ مِنْكُمُ الْحَقَهُ اللهُ 5