خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 63
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت ثابت کر رہے ہیں کہ سے مانگا 83 63 پیشگوئی مصلح موعود ۴۶۹ ء میں تجھ کو ایک رحمت کا نشان دیتا ہوں اسی کے موافق جو تو نے مجھے اب یہ تسلیم کر لینے کے بعد کہ جو کچھ بھی دیا گیا ہے۔اسی کے موافق ہے جو حضرت اقدس نے اپنے رب سے مانگا تھا اگر پیغامی موقف پر نظر ڈالیں تو اس کا یہ مطلب بنے گا کہ حضرت مسیح موعود یہ السلام نے رحمت کے نشان کے طور پر اپنے رب سے ایک پاک اور وجیہ لڑکا نہیں بلکہ پڑپوتا یا لکڑ پوتا یا نکڑ پوتا یا کوئی اور رشتہ دار مانگا تھا جو اسی دعا کے سودوسوسال کے بعد ظاہر ہو۔تمسخر کی حد ہے! ذرا سوچئے تو سہی دشمنان اسلام سے شدید مقابلہ ہورہا ہے، آپ اپنی دعاؤں کی قبولیت اور تعلق باللہ کو اسلام کی سچائی کے ثبوت کے طور پر پیش فرماتے ہیں۔دشمن یہ مطالبہ کرتا ہے کہ ہماری پیش کردہ شرائط کے مطابق خدا تعالیٰ سے کوئی خارق عادت رحمت کا نشان مانگیں اور اس کی قبولیت کی پہلے سے خبر دیں پھر اگر ہم نے دیکھ لیا کہ وہ واقعی رحمت کا نشان آپ کو اسی طرح ملتا ہے جس طرح آپ نے مانگا تھا تو کفر و اسلام کی جنگ کا اس پر فیصلہ ہو جائے۔ہم مان جائیں گے کہ آپ کچے ، آپ کا خدا سچا، آپ کا مذہب اسلام سچا۔پیغامی کہتے ہیں کہ کفر و اسلام کی یہ فیصلہ کن جنگ جب اس مرحلہ پر پہنچ گئی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کو دکھانے کے لئے ایک ایسا نشان مانگا جس کے سچا یا جھوٹا ہونے کا فیصلہ ان لوگوں کی زندگی میں ہو ہی نہیں سکتا تھا۔عجیب تمسخر ہے کہ دعوئی تو یہ ہے کہ میں تم لوگوں کو ایک حیرت انگیز نشان دکھانے والا ہوں مگر جب لوگ کہیں اچھا پھر دکھاؤ ہم تو خود مشتاق ہیں تو جو نشان پیش کیا جائے وہ یہ ہو کہ جب تم سب لوگ مرکھپ جاؤ گے تو تم پر حجت تمام کرنے کی خاطر اور میری اور دین اسلام کی سچائی کو نصف النہار کی طرح روشن کرنے کے لئے تمہیں ایک حیرت انگیز رحمت کا نشان دکھایا جائے گا۔صرف یہی نہیں بلکہ جب ہم ایک اور پہلو سے اس پیغامی موقف کو دیکھتے ہیں تو یہ تمسخر کی حد سے نکل کر ظلم اور سفا کی کی حد میں داخل ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ان کے نزدیک جہاں تک حضرت اقدس کی پہلی نسل کا تعلق ہے اس میں سے مصلح موعود پیدا ہونے کا تو کیا سوال وہ تو ساری کی ساری