خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 62
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 62 پیشگوئی مصلح موعود ۴۶۹۱ء اس پیشگوئی کے الفاظ بڑے واضح ہیں اور ان سے یہ دوامور بالبداہت ثابت ہوتے ہیں که اول نشان رحمت کے طور پر اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایک عظیم الشان اولوالعزم بیٹے کی خوشخبری دے رہا ہے اور دوم یہ کہ خدا تعالیٰ کی یہ عطا بعینہ اس التجا کے مطابق ہے جو حضرت اقدس علیہ السلام نے اپنے رب سے کی گویا مصلح موعود کی پیشگوئی میں جس وجود کے ظہور کی خبر دی گئی ہے یہ و ہی وجود ہے جو حضور علیہ السلام نے اپنے رب سے مانگا تھا۔ہمارے نزدیک یعنی ان احمدیوں کے نزدیک جو نظام خلافت سے وابستہ ہیں اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ الودود کو مصلح موعود مانتے ہیں یہ پیشگوئی نہایت صفائی اور شان کے ساتھ پوری ہو چکی ہے۔مگر احمدی کہلانے والوں کی ایک دوسری شاخ یعنی منکرین نظام خلافت اسے تسلیم نہیں کرتے۔ان کا یہ دعویٰ ہے کہ فروری ۱۸۸۶ء کے اشتہار میں مندرج پیشگوئی ہرگز حضرت اقدس علیہ السلام کے کسی اپنے بیٹے سے تعلق نہیں رکھتی بلکہ یہ کسی دو تین سوسال بعد پیدا ہونے والے روحانی یا جسمانی بیٹے کے بارہ میں ہے۔ان کے نزدیک پاک لڑکا ز کی غلام اور فرزند دلبند گرامی ارجمند وغیرہ الفاظ محض استعارہ رکھے گئے ہیں جن سے مراد بیٹا ہرگز نہیں بلکہ یہ کسی ایسے شخص کے متعلق استعمال ہوئے ہیں جو ممکن ہے دوسو سال بعد پیدا ہو۔آتا ہے۔کسی بھی پہلو سے آپ اس پیغامی موقف پر غور کر کے دیکھیں یہ انتہائی لغو اور نا معقول نظر اول تو کسی لفظ کو حقیقت کی بجائے استعارہ قرار دینے کے لئے کوئی قرینہ ہونا ضروری ہے۔یونہی خواہ مخواہ تو کسی کو یہ حق نہیں پہنچ جاتا کہ جس لفظ کو چاہے حقیقت کی بجائے استعارہ قرار دے لے اور اہل پیغام خواہ ایڑی چوٹی کا زور لگا لیں انہیں پیشگوئی مصلح موعود میں کوئی دور کا قرینہ بھی ایسا نہیں مل سکتا جس کی رو سے ”بیٹاز کی غلام اور فرزند دلبند“ کے الفاظ کو استعارہ پر محمول کرنا ضروری ہو۔پھر اگر اس پیشگوئی کے سیاق و سباق اور پس منظر پر بھی نگاہ ڈال کر دیکھا جائے تو بھی اہل پیغام کا یہ موقف انتہائی مضحکہ خیز اور عقل و خرد سے عاری نظر آتا ہے۔یہ امر تو بہر حال انہیں بھی تسلیم ہوگا کہ ” فرزند دلبند سے جو بھی مراد لی جائے خواہ اس کا ترجمہ پڑپوتا کر لیا جائے یا بیٹا یہ وہی رحمت کا نشان ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے رب سے مانگا تھا جیسا کہ خود الہام الہی کے یہ الفاظ