خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 64 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 64

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 64 پیشگوئی مصلح موعود ۴۶۹۱ راہ حق سے ہی برگشتہ ہو چکی ہے اور ہدایت سے بکلی محروم گہری ظلمتوں میں بھٹک رہی ہے۔اس موقف کو اگر تسلیم کر لیا جائے اور الہام الہی کے ان الفاظ کو بھی مدنظر رکھا جائے کہ ”میں تجھے ایک رحمت کا نشان دیتا ہوں اسی کے موافق جو تو نے مجھ سے مانگا تو لازماً اس سے یہ نتیجہ بھی نکلے گا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے رب سے گویا نعوذ باللہ یہ التجا کی تھی کہ اے میرے آقا۔۔۔۔۔قادیان کے یہ ہندو جو مجھ سے رحمت کا نشان طلب کرتے ہیں اور تیرا کوئی ایسا فضل مجھ پر نازل ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں جو میری اور اسلام کی سچائی کے ثبوت کے طور پر پیش کیا جا سکے اور جس کا بنانا انسانی اختیار سے باہر ہو تو اس کے جواب میں میری گریہ وزاری کو سنتے ہوئے میرے حق میں یہ رحمت کا نشان ظاہر فرما کہ میری ساری اولا د تو (نعوذ باللہ ) ان کے دیکھتے دیکھتے تجھ سے دور ہٹ کر ابدی ہلاکت کے گڑھے میں جاپڑے اور ان میں کوئی دین اللہ کا شرف اور مرتبہ بلند کرنے والا نہ ہومگر جب تمام موجودہ انسان صفحہ ہستی سے گزر چکے ہوں اور ان روحانی مقابلوں کا دیکھنے والا بھی کوئی باقی نہ رہے، نہ تو قادیان کا کوئی ہندو ہی موجود ہو، نہ میں ، نہ میرے موجودہ متبعین۔تو ان مرے کچھپے ہندوؤں پر حجت تمام کرنے کی خاطر اور ان تمام منتظر نگاہوں کو تسکین دینے کے لئے جو آج اس رحمت کے نشان کی انتظار میں فرش راہ بنی بیٹھی ہیں تو آج سے دو سو سال کے بعد مجھے ایک روحانی فرزند عطا فرمانا تا کہ ان بھولے بسرے ہندوؤں اور خاک بسر آنکھوں پر حجت تمام ہو جو کبھی مجھ سے رحمت کے نشان کی طالب تھیں۔کاش منکرین خلافت بغض محمود میں ایسے اندھے نہ ہوتے۔کاش وہ ذرا اتنی سی بصارت رکھتے کہ جس عناد کے تیر کو وہ محمود ایدہ اللہ الودود کے سینے میں پیوست کرنے پر مصر ہیں وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی چھاتی کو برمائے بغیر اس دل تک نہیں پہنچ سکتا۔وہ عقلاً یہ مسلک اختیار کرنے کے مجاز ہی نہیں کہ مصلح موعود کی پیشگوئی سو دو سو سال بعد پیدا ہونے والے کسی شخص کے متعلق ہے جب تک ساتھ ہی یہ بھی تسلیم نہ کر لیں کہ خاکم بدہن نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام معمولی عقل و فہم سے بھی عاری تھے۔پہلے تو اذن الہی پاکر کل عالم کو یہ چیلنج دیدیا کہ میرا خدا مجھ سے ایسی محبت اور شفقت کا سلوک فرماتا ہے کہ میری اور اسلام کی حقانیت کو دنیا پر ثابت کرنے کے لئے مجھے منہ مانگی مراد دے گا اور جو کچھ میرے حق میں فرمائے گا اس کے ایک ایک لفظ کو روز روشن کی طرح پورا