خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 44 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 44

تقاریر جلسه سالا نه قبل از خلافت 44 کیا نجات کفارہ پر موقوف ہے؟۳۶۹۱ء جاتی ہے تو کم از کم مسیح سے پہلے کے تمام انسان اور مسیح کے بعد کے تمام غیر مسیح انسان روحانی مردے شمار کرنے پڑیں گے خواہ انہیں مسیح کا پیغام پہنچا ہو یا نہ پہنچا ہو۔لیکن یہ دعوی خدا تعالیٰ کی صفت عدل پر ایک اتنا بڑا داغ ہے کہ جسے لاکھ مسیحوں کا خون بھی دھو نہیں سکتا۔ایک آدم کی ایک غلطی کے نتیجہ میں اس کی ساری تو بہ اور استغفار کو نظر انداز کر کے اس کی ساری نیکیوں کو پاؤں تلے روندتے ہوئے اس کی روح کو بھی ہمیشگی کی موت اور ابدی لعنت میں مبتلا کر دینا اور اس کی اولاد کی بڑی بھاری اکثریت کو بھی قیامت کے دن تک اس موت کا وارث قرار دیتے چلے جانا کسی عادل خدا کا تو کیا کسی ظالم خدا کا بھی فعل نہیں ہو سکتا۔ایسا ظلم اور ایسی بے رحمی اور ایسی سفا کی کسی ظالم سے ظالم بے دین جابر بادشاہ کی طرف بھی منسوب نہیں کی جاسکتی۔ہلا کو اور چنگیز نے بھی اپنی ساری زندگیوں میں وہ مظالم نہیں توڑے ہوں گے جو یہ نظریہ خدا کی طرف منسوب کر رہا ہے۔وہ تو چند انسانوں کے خون میں ہاتھ دھو کر ایسے مطعون ہوئے کہ تاریخ میں ہمیشہ کے لئے ان کا نام سرخ حرفوں میں لکھا جانے لگا لیکن عیسائیت کا خدا ایک آدم کی ایک لغزش کے عوض میں قیامت تک اس کی اولاد در اولا د اور ان کے جسموں کو ہی نہیں بلکہ روحوں تک کو ہلاک کر رہا ہے۔كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ إِنْ يَقُولُونَ إِلَّا كَذِبًا کہ بہت ہی بڑی بات ہے جو وہ خدا کے متعلق کہتے ہیں۔یقیناً یقیناً وہ جھوٹ بول رہے ہیں۔یہاں یہ امر خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ ضرورت کفارہ کو ثابت کرنے کے لئے خدا کے عدل کو پیش کیا جاتا ہے اور دعوی یہ کیا جاتا ہے کہ چونکہ وہ عادل ہے اس لئے اسے بہر حال گناہوں کی سزا دینی تھی اور معافی کا اس کے بغیر کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔لیکن وراثتاً گناہ کا تصور اور اس کی غیر محدود سزا کا آدم کی نسلوں میں جاری ہو جانا خدا کے عدل کو سرے سے باطل کر دیتا ہے۔اس موقع پر وہ لطیفہ یاد آ جاتا ہے کہ ایک بے وقوف اسی شاخ کو کاٹ رہا تھا جس پر وہ خود بیٹھا ہوا تھا۔پس عیسائیت بھی جس عدل کی شاخ پر بیٹھی ہوئی ہے، نجات کا انتظار کر رہی ہے، خود اپنے ہی ہاتھوں اسی شاخ کو کاٹ رہی ہے۔معلوم ہوتا ہے پولوس Saint Paul) نے تمام نسل انسانی کو گناہ گار ثابت کرنے کی خاطر اس نظریہ کا سہارا لیا ہے کیونکہ اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ موت گناہ کا پھل ہے تو چونکہ موت کی دست برد سے کوئی انسان محفوظ نہیں ہر انسان کو لازما گناہ گار تسلیم کرنا پڑے گا۔