خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 43
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 43 لله کیا نجات کفارہ پر موقوف ہے؟ ۳۶۹۱ء رہنے والے ہوں ایک ہی آدم کی اولاد ہیں تو سوال یہ پیدا ہوگا کہ کیا وہ آدم وہی تھا جس کے متعلق بائبل میں آتا ہے کہ اس نے گناہ کیا ؟ یہ ایک اور سوال ہے ادنیٰ سے غور سے بھی یہ معلوم ہوسکتا ہے کہ محض چھ ہزار سال کی قلیل مدت میں حضرت آدم" ہم سے چھ ہزار سال پہلے گزرے ہیں، پس چھ ہزار سال کی قلیل مدت میں ، یہ ممکن ہی نہیں کہ ایک آدم کی اولا د ایک دوسرے سے اتنی بنیادی طور پر مختلف ہوگئی ہو۔ہزار ہا سال کی انسانی تاریخ جو محفوظ ہے اس سے تو یہی پتا چلتا ہے کہ چینی آج سے ہزاروں سال پہلے بھی یہی نقوش رکھتے تھے اسی طرح ان کے چیٹے ناک ہوا کرتے تھے اور زردرنگ ہوا کرتے تھے جو وہ آج رکھتے ہیں اور انگریزوں یا دوسری یورپین اقوام یا حبشیوں یا عربوں سے ان کی کوئی بھی مشابہت نہ پہلے تھی نہ اب ہے۔چینیوں پر ہی موقوف نہیں دنیا کی کسی قوم کی تاریخ کو بھی اٹھا کر دیکھ لیجئے نقوش کی کسی تدریجی تبدیلی کا کوئی پتا نہیں چلتا۔مزید برآں اس صدی کے سائنس کے انکشافات نے تو قطعی طور پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ انسان کا وجود آدم کے وجود سے ہزاروں سال پہلے سے موجود ہے اور اس طرح انسانوں کا مختلف بر ہائے اعظموں پر پھیلاؤ بھی حضرت آدم“ کے وجود سے ہزاروں سال قبل ہو چکا تھا۔پس ان قطعی شواہد کی روشنی میں لازماً ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ بائبل کا بیان کردہ آدم اور تھا اور ہمارا باپ جد امجد جو واحد آدمی تھا وہ کوئی اور تھا۔ہم سب کا مشترکہ باپ حضرت آدم سے ہزار ہا سال پہلے کسی نامعلوم خطہ ارض میں پیدا ہوا تھا۔پس اس پہلو سے بھی آدم کے فعل کی وجہ سے تمام بنی نوع انسان کا گناہ گار ہونا ہرگز ثابت نہیں ہوسکتا۔موت اور گناہ کا تعلق سینٹ پال Saint Paul) کے وراثتی گناہ کے نظریہ کی ایک شق یہ ہے کہ موت اس گناہ کا پھل ہے اور موت کا وجود گناہ کے وجود کو ستلزم ہے۔اس نظریہ کے مطابق اگر آدم گناہ نہ کرتا یا گناہ اس کی اولاد میں منتقل نہ ہوتا تو بنی آدم موت کی لعنت میں مبتلا نہ کئے جاتے۔اگر تو موت سے مراد اس جگہ روحانی موت ہے تو آدم سمیت آج تک کے تمام انسان روحانی طور پر مردہ شمار ہونے چاہئیں جو آدم کی نسل میں سے ہیں اور اگر یہ بھی فرض کر لیا جائے کہ میچ پر ایمان لانے سے یہ موت ٹل