خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 42
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 42 کیا نجات کفارہ پر موقوف ہے؟۳۶۹۱ء اور اس کا استغفار اور وہ تمام بھلائیاں جو وہ عمر بھر کرتا رہا اس کی موت کے ساتھ ہی پیوند خاک ہو گئیں۔وہ تمام نیکیاں اس کی اولاد کو فطر تا نیک نہ بنا سکیں اور وہ ایک بدی بنی آدم کا مستقبل ہمیشہ کے لئے تاریک کر گئی۔اس نظریہ پر ایک اور اعتراض یہ وارد ہوتا ہے کہ اگر اسے درست تسلیم کر لیا جائے تب بھی اس سے زیادہ سے زیادہ یہی نتیجہ نکل سکتا ہے کہ اس آدم کی اولا د گناہ گار ہوئی جس آدم نے وہ مبینہ گناہ کیا تھا لیکن اس امر کا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ تمام بنی نوع انسان ایک ہی آدم کی اولاد ہیں اور جب تک یہ ثابت نہ کیا جائے اس وقت تک یہ نظریہ کسی عالمی کفارہ کی بنیاد نہیں بن سکتا۔اگر مشرق اور مغرب کی مختلف اقوام اور کالوں اور گوروں کے مختلف آدم ہو سکتے تو جہاں تک کفارہ کی ضرورت اور ابن اللہ کے انسانی جسم اختیار کرنے کا سوال ہے یہ نظریہ مہمل ہو کر رہ جاتا ہے۔دلیل تو اس طرح پر قائم کی گئی ہے کہ چونکہ بنی نوع انسان وراثتی گناہ کی وجہ سے لازماً گناہ گار ہیں اور ان میں سے کوئی ایک بھی معصوم پیدا نہیں ہو سکتا جو دوسرے گناہ گاروں کا بوجھ اٹھا سکے اس لئے ضرورت تھی کہ ابن اللہ آسمان سے نازل ہو کر انسانی جسم اختیار کرتا اور ہمارے گناہوں کا بوجھ اُٹھا کر خدا کے عدل کی پیاس بجھاتا۔لیکن اس صورت میں کہ بنی نوع انسان تمام کے تمام اس ایک آدم کی اولا د ثابت نہ ہوں ان سب کا گناہ گار ہونا بھی قطعاً ثابت نہیں ہو سکتا ہے اور ضرورت ہی باقی نہیں رہتی کہ ہم کسی معصوم قربانی کی تلاش میں آسمان کی طرف نگاہ لگائے بیٹھے رہیں۔اس امکانی اعتراض کے جواب میں بعض عیسائی مفکرین یہ کہہ دیتے ہیں کہ اگر چہ یہ تو ممکن ہے کہ ایک سے زیادہ آدم ہوں لیکن ان کی اولادوں کی آپس میں بیاہ شادیوں کے ذریعہ تمام بنی نوع انسان کا خون اس گناہ گار آدم کے خون کی ملاوٹ سے گدلا ہو سکتا ہے۔اس خیالی جواب کو سن کر کوئی عقل مطمئن نہیں ہو سکتی جب تک کہ اس امر کی مکمل تحقیقات اور اعداد و شمار نہ پیش کئے جائیں کہ مشرق ومغرب کی جملہ اقوام یعنی زردہ، گوری اور کالی اور سرخ، چھٹے ناکوں والی اور اونچے ناکوں والی غرضیکہ سطح ارض کے تمام انسانوں کا خون اس آدم کے خون کے ساتھ گھل مل چکا ہے جس نے بائبل کے بیان کے مطابق گناہ کیا تھا۔اگر ہم یہ تسلیم بھی کرلیں کہ تمام بنی نوع انسان خواہ وہ کسی رنگ کے ہوں اور کسی ملک کے