خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 41
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 41 کیا نجات کفارہ پر موقوف ہے؟ ۳۶۹۱ء دیکھئے اول تو ایسے اہم نظریہ کی بنیاد جو انسان کی روح کے لئے زندگی اور موت کا سوال ہو ایک نہایت ہی کمزور غیر ثابت شدہ دعوئی پر رکھی گئی ہے۔یعنی اس دعوی پر کہ آدم نے گناہ کیا۔تاریخی شواہد سے ہرگز آدم کا گناہ گار ہونا ثابت نہیں ہوسکتا اور اگر بائبل کو الہامی تسلیم کر کے یہ بھی تسلیم کر لیا جائے کہ بائبل غیر مبدل اور محفوظ ہے تو بھی خود بائبل کا بیان آدم کے گناہ کے بارے میں ایسا واضح نہیں کہ اس کی تشریح میں اختلاف کی گنجائش نہ ہو۔دوسرے یہ مسئلہ چونکہ تمام بنی نوع انسان سے تعلق رکھتا ہے جن میں ہندو بھی ہیں ، بدھ بھی ، زرتشتی بھی اور کنفیوشس بھی۔اس لئے ایسے اہم مسئلہ پر جب تک ٹھوس نا قابل تردید تاریخی شہادتیں پیش نہ کی جائیں اس وقت تک اس دعویٰ کی حقیقت مفروضہ سے آگے نہیں بڑھ سکتی۔پس اس پہلو سے آدم کے گناہ کو ثابت کرنے کے لئے محض بائبل کا بیان کافی نہیں ہوسکتا بلکہ ایسی غیر جانب دارانہ تاریخی شہادتیں پیش کی جانی ضروری ہیں جو بلا امتیاز مذہب و ملت ہر انسان کے لئے قابل قبول ہوں۔بائبل کی گواہی تو اتنی کمزور ہے کہ اسے الہامی تسلیم کرنے والوں کے لئے بھی یہ گواہی کافی نہیں۔یہ دعوی بھی کہ آدم کا گناہ نسل انسانی میں سرایت کر کے وراثتاً اولا در اولاد میں منتقل ہوتا چلا جاتا ہے ایک نہایت ہی بے بنیاد اور نا معقول دعوئی ہے۔نہ صرف یہ کہ اس کے حق میں کسی قسم کے فلسفیانہ یا سائنسی شواہد نہیں ملتے بلکہ اب تک سائنس نے علم وراثت حیوانی سے متعلق جو کچھ بھی معلومات فراہم کی ہیں وہ تمام اس عقیدہ کا بطلان ثابت کر رہی ہیں۔سائنس کے ان انکشاف کی رو سے تو اگر یہ فرض بھی کر لیا جائے کہ آدم نے اس گناہ پر زندگی بھر ہر لمحے ، ہر سانس میں عمل کیا ہو بلکہ آدم سے لے کر آج تک کی تمام نسل انسانی مسلسل اپنی تمام زندگیاں بھی اسی گناہ کی تکرار کرتی رہی ہوں تب بھی اس پانچ چھ ہزار سال کی قلیل مدت میں وہ گناہ انسان کی سرشت میں داخل نہیں ہوسکتا۔اس مسئلہ کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ اگر یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ انسانی خیالات اور افعال کے اثرات بعینہ اسی طرح اولاد میں منتقل ہو سکتے ہیں تو پھر جس طرح گناہ کو یہ حق پہنچتا ہے کہ ایک نہ ختم ہونے والا ورثہ بن کہ زندگی کے ذرات میں جذب ہو جائے نیکیوں کو کیوں یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ بھی گناہ کی طرح انسانی زندگی کا جزوِ لا ینفک بن جائیں۔حیرت کی بات ہے کہ آدم کی ایک لمحہ کی بدی تو ہمیشہ کے لئے اس کے مادہ افزائش میں محفوظ کر دی گئی لیکن اس کی عمر بھر کی نیکیاں، اس کی تو بہ