خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 435
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 435 غزوات النبی اے میں خلق عظیم (غزوہ حدیبیہ ) ۱۸۹۱ء جانتا تھا کہ وہ کتنے عرصہ سے قید تھا اور قید کے دوران اس پر کیا کیا مظالم توڑے گئے ؟ وہ سلاسل میں جکڑا ہوا ایک دیوانہ سا تھا جو بڑے کرب اور اضمحلال کے ساتھ چھوٹے چھوٹے صبر آزما قدم اٹھاتا ہوا قریب تر آرہا تھا۔جب اس کا سرا پا روشن اور واضح ہوا تو تعجب سے سب نے دیکھا کہ وہ تو سفیر مکہ سہیل بن عمروہی کا اپنا بیٹا تھا جسے خدا جانے کب سے محض اس جرم کی سزا میں عذاب دیا جار ہا تھا کہ وہ اس حقیقت پر ایمان لے آیا کہ اللہ ایک ہے اور محمد اس کا بندہ اور رسول ہیں۔اس نے آتے ہی اپنا معاملہ حضور کی خدمت میں پیش کیا اور بڑے دکھ کے ساتھ اپنی درد بھری کہانی بیان کر کے آنحضور سے امان چاہی لیکن پیشتر اس کے کہ آنحضور اس کو امان دیتے اس کا باپ بیچ میں حائل ہو گیا اور بڑی سختی سے اس بات پر اصرار کیا کہ معاہدہ کی شرائط کے مطابق آپ کو بہر حال اسے واپس لوٹانا ہوگا۔محدثین اور مؤرخین کے بیان کے مطابق صحابہ کی حالت اس وقت ایسی تھی کہ اس نوجوان کے حال زار پر نظر ڈال کر بے حال ہوئے جاتے تھے۔کفار مکہ کی شقاوت کو دیکھ کر ان کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔ان کے تن بدن میں ایک آگ سی لگ گئی اور نگاہیں آتش برسانے لگیں۔کسی مظلوم کی ہمدردی میں کم ہی کوئی قوم اتنی برافروختہ ہوئی ہوگی جیسے اس وقت صحابہ برافروختہ تھے۔اس وقت وہ ایک ایسے آتش فشاں کی طرح تھے جو ہر لمحہ پھٹ پڑنے کیلئے تیار ہو اور اس کے سینہ سے گہری گڑگڑاہٹ کی آوازیں سنائی دیتی ہوں۔لیکن محمد مصطفی ﷺ کا قوی ہاتھ اس آتش فشاں کے دہانے پر اس کے ہر جذبۂ بے تاب کو دبائے ہوئے تھا۔دبے ہوئے غم وغصہ کی وجہ سے جو اندر ہی اندرکھول رہا تھا۔صحابہ کے بدنوں پر ایک زلزلہ سا طاری تھا۔ان کا بس چلتا اور اختیار ہوتا تو معاہدہ کی نامکمل تحریر کو چاک کر کے بھی ابو جندل کو بچالیتے۔وہ صاحب امر ہوتے تو اہل مکہ کے ساتھ جنگ کر کے بھی ابو جندل کو بچالیتے۔ان کی کچھ پیش جاتی تو اپنی جانیں دے کر بھی اس ایک مظلوم جان کو روک لیتے لیکن محمد مصطفی مال کے رعب و جلال اور روحانی دبدبہ کے سامنے ان کی کچھ پیش نہ جاتی تھی۔آئیے اب دیکھیں کہ اس وقت حضرت محمد مصطفی ﷺ کی کیا حالت تھی ؟ تخلیق آدم کا وہ شاہکار ایک کوہ وقار بنا بیٹھا تھا۔غم اور غصہ سے مغلوب ہو کر اس کا بدن نہیں کانپا ، اس کے ہونٹ نہیں کپکپائے، دیکھنے والوں نے اس کے جسم پر کوئی لرزہ طاری ہوتے ہوئے نہ دیکھا۔کون کہہ سکتا ہے کہ وہ دل زخمی نہ تھا ؟ کون گمان کر سکتا ہے کہ آپ کا سینہ اس مظلوم کی