خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 434 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 434

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 434 غزوات النبی اے میں خلق عظیم (غزوہ حدیبیہ ) ۱۸۹۱ء معاہدہ میں محمد رسول اللہ نہیں بلکہ محمد بن عبد اللہ لکھا جائے نعوذ باللہ آپ کی رسالت کی ہتک یا صداقت میں اشتباہ پیدا کرنے والی بات سمجھی گئی حالانکہ معاملہ برعکس تھا۔یہ تو آپ کی صداقت ہی کی ایک مین دلیل تھی۔یہ مقام رسالت کو گرانے والی بات نہ تھی بلکہ آپ کی رسالت کے عز و شرف کو اور بھی بڑھانے والا ایک ایسا واقعہ تھا جسے غیروں کی آنکھ بھی ہمیشہ احترم سے دیکھتی رہے گی۔یہ آپ کے جذبہ حق و انصاف کی فتح تھی اور لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ (البقرۃ:۷۵۲) کے لازوال اصول پر عمل پیرا ہونے کی ایک درخشندہ مثال تھی۔یہ ایک ایسا فیصلہ تھا جو ہمیشہ بین الاقوامی معاہدات اور بین المذاہب مصالحتوں کیلئے مشعل راہ کا کام دیتارہے گا۔آپ نے اس دن قیامت تک آنے والی نسلوں کو یہ سبق دیا کہ اگر صلح و امن کا قیام چاہتے ہو تو ایک دوسرے کے ساتھ معاملات طے کرتے ہوئے غلط بات کہے بغیر کم سے کم قدر مشترک پر رضامند ہونا سیکھ جاؤ۔تَعَالَوْا اِلى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ ( آل عمران: ۲۵) کی ایک نئی تفسیر اس روز آپ نے ہمیں سکھائی۔واقعہ ابو جندل صحابہ کی نظر میں معاہدہ کی یہ شرط بھی انتہائی ذلت آمیز تھی کہ جب قریش میں سے کوئی مسلمان ہوکر رسول اللہ کی پناہ میں آجائے تو اس کے خاندان کی طرف سے مطالبہ ہونے پر آنحضور اس بات کے پابند ہوں گے کہ اسے واپس کر دیں لیکن اگر مسلمانوں میں سے کوئی مرتد ہو کر اہل مکہ کی پناہ میں چلا جائے تو مطالبہ کے باوجود اسے واپس نہیں لوٹا یا جائے گا۔اس شرط کے تسلیم کئے جانے پر صحابہ مرغ بسمل کی طرح تڑپ اٹھے تھے اور ان کے تازہ زخموں پر نمک پاشی کا بھی عجیب رنگ میں سامان پیدا ہوا۔عین اس وقت جب یہ شرط بھی زبانی طور پر طے پا رہی تھی اور دم تحریر میں نہ آئی تھی ، نہ ہی معاہدہ پر فریقین کے آخری دستخط ہوئے تھے یہ عجیب واقعہ گزرا کہ حاضرین مجلس نے مکہ کی جانب سے زنجیروں اور بیڑیوں میں جکڑے ہوئے پریشان حال ایک قیدی کو گرتے پڑتے اپنی طرف آتے ہوئے دیکھا۔وہ سخت مفلوک الحال تھا۔اس کے بدن کا انگ انگ راستے کی صعوبت اور زنجیروں کے بوجھ اور کٹاؤ سے دکھ رہا تھا۔کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ کب سے بھوکا تھا۔کوئی نہیں