خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 436
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 436 غزوات النبویہ میں خلق عظیم (غز ووحد بيه ) ۱۸۹۱ء حالت زار پر ہمدردی اور رحمت کے جذبات سے امڈ نہ آیا تھا ؟ کون تصور بھی کر سکتا ہے کہ اس دل کا حال جو سارے جہانوں کیلئے رحمت تھا جو رؤف تھا رحیم تھا، جو اپنے غلاموں کے ساتھ ہر دوسرے سے بڑھ کر پیار کرنے والا تھا ویسی شفقت تو کسی نے کبھی ما در مہربان سے بھی نہ دیکھی تھی جو اس سے دیکھی۔لیکن آپ کے جذبات ہمیشہ اعلیٰ اصولوں کے تابع رہے اور انہیں مرضی خدا سے سرمو انحراف کی تعلیم نہ تھی۔پس موجزن جذبات اور اعلیٰ اصولوں کی اس کشمکش میں اصولوں کی فتح ہوئی اور اپنے جذبات کو ایک آہنی عزم کے ساتھ آپ نے زیر نگیں رکھا۔آپ نے بڑے تحمل اور بردباری کے ساتھ حالات کا جائزہ لیا اور سہیل بن عمرو سے فرمایا کہ ابھی تو معاہدہ کی تحریر پر دستخط نہیں ہوئے اس لئے اپنے بیٹے کو ساتھ لیجانے پر اصرار نہ کرو۔اس نے کہا ہرگز ایسا نہیں ہو گا دستخط ہوئے ہوں یا نہ ہوئے ہوں یہ شرط ہمارے درمیان تقریباً طے شدہ تھی اس لئے اے محمد ! معاہدہ کی پابندی کا یہ آپ کا پہلا امتحان ہے۔دیکھو اس کے منہ سے یہ کیسی احمقانہ بات نکلی ! وہ جو تعلیم اخلاق کی الف ب نہ جانتا تھا استاد کامل کا امتحان لینے کی باتیں کر رہا تھا لیکن آنحضور نے اس کی جہالت کو نظر انداز فرماتے ہوئے بڑی نرمی کے ساتھ اسے فرمایا سہیل جانے بھی دو، چھوڑو ان باتوں کو۔دیکھو اور نہیں تو میری خاطر ہی اتنی الله سی بات مان جاؤ کہ اپنے بیٹے کو میری امان میں آنے دو۔لیکن افسوس کہ آنحضور ﷺ کے دل جیتنے والے انداز طلب نے بھی اس کے سینے کے پتھر پر اثر نہ کیا۔کاش وہ ایسا کرتا تو اس کے دنیا و آخرت سنور جاتے۔یہ لمحہ تاریخ کے ان معدودے چند لحات میں سے ایک تھا کہ جب آنحضور نے کسی سے اپنی ذات کا واسطہ دے کر کسی کے لئے رحم کی اپیل کی ہو لیکن اس نے نہ سمجھنا تھا نہ سمجھا۔پس آنحضور نے مزید اصرار نہ فرمایا اور اس کے مؤقف کو تسلیم کر کے اپنے عمل سے یہ ثابت کر دیا کہ اہل ایمان کے معاہدات کسی تحریر یا دستخط کے پابند نہیں ہوا کرتے بلکہ مومن کے منہ سے جو بات بھی نکل جاتی ہے وہی پتھر کی لکیر اور لا زوال اور انمٹ تحریر بن جاتی ہے۔آنحضور" کیلئے جذبات کی ہر قربانی ممکن تھی لیکن یہ ممکن نہ تھا بخدا یہ مک نہ تھا کہ معاہدہ شکنی کرتے ہوئے اپنے رحم و شفقت کے جذبات کی تسکین کرتے۔السيرة الحلبیہ جلد ۳ نصف اول صفحه: ۸۷، ۸۸) جب یہ بات کھل گئی کہ ابو جندل کو بہر حال اپنے شقی القلب باپ کی حراست میں جانا ہوگا