خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 426
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 426 غزوات النبی اللہ میں خلق عظیم (غزوہ حدیبیہ ) ۱۸۹۱ء ,, آج ہمیں یہ حقیقت نہیں بھلانی چاہئے کہ صحابہ لا کھ مومن سہی آخر ا نہی عربوں میں سے تو آئے تھے جو اپنی عزت نفس پر ایک ادنی سی آنچ بھی نہ آنے دیتے تھے۔وہی آزاد صحرائی خون ان کی رگوں میں بھی گردش کر رہا تھا جو ذراسی سبکی کے تصور سے بھی کھولنے لگتا تھا۔ان کے دلوں سے بھی ویسے ہی تیل کے چشمے اہلتے تھے جو تحقیر کی ایک ذراسی چنگاری سے آتش جوالہ بن کر بھڑک اٹھتا تھا۔پس کیا یہ حضور اکرم کی عظمت و جلال کا معجزہ نہیں تھا کہ ان کی غیر تیں کفار مکہ کی کند چھریوں سے ذبح کی گئیں مگر انہیں پھڑکنے کی بھی اجازت نہ تھی۔ان بظاہر ذلت آمیز شرائط پر مستزاد یہ کہ صلح نامہ کی تحریر کے دوران سہیل بن عمر وآنحضور ﷺ سے مسلسل بدخلقی کا مظاہرہ کرتا رہا۔چنانچہ جب اسلامی دستور کے مطابق سرنامہ پر بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ “ لکھا گیا تو اس نے سختی سے کہا بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ “ کیا ہے؟ میں تو باسمک اللهم لکھواؤں گا۔چنانچہ صلى الله آنحضوں نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو اس کے مطابق تحریر کا ارشاد فرمایا۔پھر جب یہ لکھا گیا کہ یہ معاہدہ محمد رسول اللہ اور سہیل بن عمرو کے درمیان ہے تو اس نے کہا اگر ہم تجھے اللہ کا رسول مانتے تو اس جھگڑے کا موقع ہی کیا تھا اس لئے رسول اللہ کا لفظ کاٹ کر سیدھا سادہ محمد بن عبداللہ لکھو۔سیرت نگار لکھتے ہیں کہ اس موقع پر بھی آنحو ں نے اس کی بات تسلیم فرمائی اور علی کو محمد رسول اللہ کاٹ کر محض محمد بن عبداللہ لکھنے کا ارشاد فرمایا۔اس وقت صحابہ کے دل کی جو کیفیت تھی اس کا کچھ اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ حضرت علی جو اطاعت کا پتلا اور فنا فی الرسول تھے کامل فرمانبرداری کے با وجود حضور کے اس ارشاد کی تعمیل سے قاصر رہے۔ان کے ہاتھوں میں اس بات کی سکت ہی نہ رہی کہ محمد رسول اللہ کے الفاظ کاٹ کر محمد بن عبداللہ لکھیں۔ان کی کیفیت دیکھ کر آنحضور نے انہیں کچھ نہیں کہا، کوئی شکوہ نہیں کیا، کسی خفگی کا اظہار نہیں فرمایا۔خاموشی سے ہاتھ بڑھا کر وہ تحریر لے لی اور اپنے دست مبارک سے رسول اللہ کا لفظ کاٹ کر محمد بن عبداللہ لکھ دیا۔السيرة الحلبیہ جلد ۳ نصف اول صفحه: ۸۲ ۸۳) بعض مؤرخین کے نزدیک یہ آنحضور کا معجزہ تھا کہ امی ہوتے ہوئے بھی اپنا نام لکھ دیا۔بعض کہتے ہیں کہ رسالت کی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں چونکہ دستخطوں کی ضرورت پیش آتی تھی لہذا