خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 425 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 425

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 425 غزوات النبی میں خلق عظیم (غز ووحد بيه ) ۱۸۹۱ء وَارَى الْقُلُوْبَ لَدَى الْحَنَاجِرَ كُرْبَةٌ وَارَى الْغُرُوبَ تُسِيْلُهَا الْعَيْنَانِ آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحه : ۵۹۰) جیسا کہ بیان کر چکا ہوں بیعت رضوان کو ابھی کچھ دیر نہ گزری تھی کہ حضرت عثمان واپس اہل ایمان کے قافلہ میں آملے۔رحمتوں کی بارش برسانے کے بعد فکر کے وہ سب بادل چھٹ گئے اور گفت و شنید کا منقطع سلسلہ ایک بار پھر سے جاری ہو گیا۔اس مرتبہ قریش مکہ نے سہیل بن عمرو کو اپنا نمائندہ بنا کر بھیجا اور آنحضور ﷺ نے اسے دیکھتے ہی حاضرین مجلس کو یہ خوشخبری سنائی کہ سهل امر کم یعنی اب آسانی کی صورت نکل آئی اور آخر قریش صلح پر آمادہ ہو ہی گئے۔(السیرۃ الحلبیہ جلد ۱۳ نصف اول صفحہ: ۸۰) اس گفت و شنید کے دوران صحابہ پر بار بار ایسے سخت ابتلا آئے کہ خدا تعالیٰ کے خاص فضل کا ہاتھ ان کے دل نہ تھامے رکھتا تو وہ صبر کی بازی ہار جاتے۔عمومی گفتگو کے بعد فریقین کے مابین جو باتیں طے ہوئیں وہ اکثر و بیشتر اپنی ظاہری صورت میں مسلمانوں کیلئے خفت اور کفار کیلئے فتح و شادمانی کا موجب نظر آتی تھیں اور خدا اور اس کے رسول کے سوا کوئی نہ جانتا تھا کہ ان میں سے ہر خفت آمیز شرط کے اندر مستقبل کی فتح کی چابیاں چھپی ہوئی ہیں۔معاہدہ صلح کی وہ شرائط جو مسلمانوں کو انتہائی خفت آمیز معلوم ہو رہی تھیں اور وہ انہیں قبول کرنے کی بجائے کٹ مرنے کو ترجیح دیتے تھے وہ یہ تھیں: اس سال مسلمان بغیر حج اور عمرہ کے واپس لوٹ جائیں ہاں آئندہ سال دوبارہ آئیں لیکن اس دفعہ بھی صرف تین دن مکہ میں قیام کی اجازت ہوگی۔تا اختتام معاہدہ قریش اور مسلمانوں کے درمیان صلح رہے گی لیکن اس دوران اگر کفار میں سے کوئی شخص مسلمان ہو کر مدینہ کی طرف ہجرت کر جائے تو عندالمطالبہ اسے کفار کو واپس کرنا پڑے گا۔ہاں اگر کوئی مسلمان مرتد ہو کر کفار سے جاملے تو اسے مسلمانوں کو واپس نہیں کیا جائے گا۔“ السيرة الحلبیہ جلد ۳ نصف اول صفحه : ۸۵،۸۴)