خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 423
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 423 غزوات النبی اللہ میں خلق عظیم (غزوہ حدیبیہ ) ۱۸۹۱ء أوليكَ يَلْعَنُهُمُ اللهُ وَيَلْعَنُهُمُ التَّعِنُونَ ( البقرة : ٠٦) : أُولَكَ عَلَيْهِمْ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَبِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ (البقرة: ۱۶۲) فَلَمَّا أَسَفُوْنَا انْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَأَغْرَقْنَهُمْ أَجْمَعِينَ فَجَعَلْتُهُمْ سَلَفًا وَ مَثَلًا لِلْآخِرِينَ ) (الزخرف:۵۶-۵۷) پس نوح کی قوم کا انجام میری آنکھوں کے سامنے آگیا اور لوط کی قوم پر دن رات برسنے والے سنگریزے مجھے دکھائی دینے لگے۔عاد اور ثمود کی بربادی کے مناظر نے مجھے بے چین کر دیا اور حسرت سے میں نے بنی آدم پر نظر ڈالی کہ آخر کب تک وہ خدا کے سفیروں کی بے حرمتی کی جسارت کرتے رہیں گے۔میں کانپ اٹھا اس الہام کے تصور سے جو آج کے زمانہ کے انسان کیلئے عبرت اور تذکیر کا عنوان بنا ہوا ہے: دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اسے قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی کو ظاہر کر دے گا۔“ ( تذکره صفحه: ۱۴۸) آئیے اب ہم ماضی کے عبرت کدوں اور مستقبل کے پُر خطر اور پر ہول مقامات سے واپس حدیبیہ کے میدان کی طرف لوٹتے ہیں جہاں ہمارے آقا و مولیٰ اپنے سفیر کے قتل کی خبر پر صحابہ سے بیعت لے رہے ہیں۔یہ بیعت ایسے گہرے خلوص اور جذبہ سے کی گئی کہ اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت اور رضا کی نظر پڑی اور ایسے پایہ قبولیت میں جگہ عطا کرتے ہوئے اس واقعہ کا ذکر فرمایا: لَقَدْ رَضِيَ اللهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنْزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا (الفتح: ١٩) یہ سب کچھ ہوا اور خبر کے ظاہر ہونے پر فیصلہ فرماتے ہوئے آنخصوص اگر چہ ہر امکانی اقدام کیلئے پوری طرح تیار ہو چکے تھے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ آنحضور ﷺ کی غیر معمولی بصیرت نے اس امکان کا دروازہ ابھی بند نہیں فرمایا تھا کہ شاید یہ خبر جھوٹی ہو۔چنانچہ بیعت کے دوران عثمان کی