خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 424
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 424 غزوات النبی میں خلق عظیم (غزوہ حدیبیہ ) ۱۸۹۱ء نمائندگی میں آپ کا اپنے بائیں ہاتھ کو دائیں ہاتھ پر رکھتے ہوئے یہ فرمانا کہ میر بایاں ہاتھ عثمان کی نمائندگی کر رہا ہے لہذا وہ بھی اس بیعت میں شامل ہے، صاف بتا رہا ہے کہ آنحضور کے نزدیک ان کی زندگی کا امکان ان کے قتل کے احتمال کی نسبت زیادہ تھا ورنہ اس بیعت میں حضرت عثمان کو شامل فرمانے کے کوئی معنی نہیں بنتے۔یہ بیعت تو شہادت کے عہد کے طور پر لی جارہی تھی۔حضرت عثمان کی شہادت کا اگر آپ کو یقین ہوتا تو ان کو اس بیعت میں شریک نہ فرماتے۔وہ جو پہلے ہی شہید ہو چکا ہو اس نے شہادت کا از سر نو اقرار بھلا کیا کرنا تھا ! پس فکر و نظر قربان ہوں ان مقدس نگاہوں پر جو اللہ کے نور سے دیکھا کرتی تھیں۔وہی ہوا جس کا آپ کو غالب گمان تھا اور بیعت رضوان کے تھوڑی دیر بعد ہی حضرت عثمان بخیر و عافیت اپنے آقا کے قدموں میں لوٹ آئے۔شان دلنوازی اپنے بائیں ہاتھ کو عثمان کا ہاتھ قرار دے کر خود اپنے ہی ہاتھ سے ان کی بیعت لینے کے واقعہ میں ایک عجیب شان دلنوازی بھی پائی جاتی ہے۔دیکھو کیسی بندہ پروری ہے، کیسی شفقت اور رحمت کا اظہار ہے، کیسی محبت ہے اپنے غلاموں سے، کیسا پیار ہے کہ اس عظیم الشان اور منفر د تاریخی واقعہ پر جب خدا کے بے پایاں فضل اور مغفرت نے اس درخت اور اس کے گردو پیش اور ان سب کو جو اس کے نیچے تھے ڈھانپ رکھا تھا اپنے اس غلام کو یا در کھا اور محروم نہ رہنے دیا جس نے مسلمانوں کی نمائندگی میں اپنی جان کو خطرہ میں ڈالا تھا۔اس غلام کو ذرا دیکھو کہ آقا نے کیسا اعزاز بخشا اور کیسے خاک سے اٹھا کر ثریا سے ملا دیا! اس بندہ فانی کو کیسا آب حیات عطا کیا کہ زندہ جاوید کر دیا۔وہ جو غیر حاضر تھا سب حاضر غلاموں سے آگے بڑھ گیا اور وہ ہاتھ جو بیعت نہ کر سکا تھا سب بیعت کرنے والے ہاتھوں پر سبقت لے گیا۔وہ عجیب لمحات تھے کہ جب آسمان کی آنکھ نے یہ چکا چوند کرنے والا نظارہ دیکھا کہ محمد مصطفی کا ایک ہاتھ تو اللہ کے ہاتھ کی نمائندگی کر رہا تھا اور دوسرا ہاتھ عثمان کے ہاتھ کی۔آنحضور کی اس بندہ پروری کو دیکھ کر بے اختیار دل سے یہ صدا اٹھتی ہے کہ اے سب دلنوازوں سے بڑھ کر دلنوازی کرنے والے آقا ! ہاں اے سب دلنوازوں سے بڑھ کر دلنوازی کرنے والے آقا! دیکھ ہمارے سینوں میں جانیں تیرے قدموں پر شار ہونے کیلئے مچل رہی ہیں اور دل جوش محبت سے دھڑکتے ہوئے ہنسلیوں سے ٹکرا رہے ہیں: