خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 422 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 422

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 422 غزوات النبی میں خلق عظیم (غزوہ حدیبیہ ) ۱۸۹۱ء خدا کی غیرت میں نے سوچا کہ سفیر کی حرمت کا پاس بھی محمد مصطفی ﷺ نے اپنے رب ہی سے سیکھا تھا وہ بھی تو اپنے سفیروں کی حرمت کیلئے بے مثل غیرت دکھاتا ہے۔اس خیال کے ساتھ ہی انبیاء کے دشمنوں کی وہ ساری تاریخ ایک کھلی ہوئی کتاب کی طرح میری آنکھوں کے سامنے پھر گئی جو بڑے بڑے مغرور اور سرکش بادشاہوں کے سر توڑے جانے کی خبر دیتی ہے اور بڑی بڑی عظیم قوموں کی ہلاکت اور بربادی کی داستان بیان کرتی ہے۔جب کبھی ان بادشاہوں نے جن کے رعب اور ہیبت سے زمین کا نیا کرتی تھی اللہ کے سفیروں اور اس کے در کے فقیروں کو حقارت سے دیکھا اور ان کو رسوا کرنے کا ارادہ کیا تو اللہ کی غیرت اور جلال نے خود انہی کو ذلیل اور رسوا کر دیا، ان کی عزتوں کو خاک میں ملا دیا اور ان کی سلطنتوں کو پارا پارا کر دیا۔ان کی عظمتوں کے پرزے اڑا دیئے گئے اور ان کے تکبر ٹوٹ کر اس طرح ریزہ ریزہ ہو گئے جیسے کانچ کا برتن کوئی غضبناک ہاتھ کسی چٹان پر دے مارے۔وہی زمینیں جو کبھی ان کے ہیبت و جلال سے کانپا کرتی تھیں ان کے بد انجام کے نظارے سے لرز نے لگیں۔میں نے آنحو ﷺ کے اسوہ پر غور کیا تو مجھے سمجھ آگئی کہ کیوں وہ بظا ہر عظیم تو میں تباہ کی گئی ہیں جنہوں نے خدا کے پیغمبروں کے مقابلہ کی جسارت کی تھی؟ کیوں انہیں صفحہ ہستی سے مٹادیا گیا اور کیوں وہ خواب و خیال کی باتیں بن گئیں؟ ان کی جمعیتیں کام نہ آئیں اور ان کی کثرت نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا۔وہ ہلاک کی گئیں مگر آسمان نے ان کے حال پر کوئی آنسو نہ بہایا۔وہ برباد کی گئیں مگر زمین نے ان کی بربادی پر کوئی تاسف نہ کیا۔ہاں زمین و آسمان نے بیک آواز ان پر لعنت کی اور وقت نے لعنت کی اس پھٹکار کو اس طرح محفوظ کر لیا کہ قیامت تک اس کی گونج سنائی دیتی رہے گی۔زمین کی لعنت کی بازگشت آسمان سے اترتی رہے گی اور آسمان کی لعنت کی بازگشت زمین سے اٹھتی رہے گی اور قرآن کی تلاوت کرنے والے ہمیشہ مسرت کے ساتھ ان کا ذکر کرتے ہوئے ان آیات کی تلاوت کرتے رہیں گے: فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاءِ وَالْأَرْضُ وَمَا كَانُوا مُنْظَرِينَ (الدخان: ۳۰)