خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 414
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 414 غزوات النبویہ میں خلق عظیم ( غزوہ حدیبیہ ) ۱۸۹۱ء گفت و شنید حدیبیہ میں پڑاؤ چند روز جاری رہا۔اس دوران قریش مکہ کے ساتھ گفت و شنید ہوتی رہی جس کا آغاز اہل مکہ کی طرف سے ہی ہوا۔انہوں نے تین قاصد بنام بدیل بن ورقاء، مگر ز بن حفص اور جلیس کو یکے بعد دیگرے اس غرض سے بھیجا کہ مسلمانوں کی قوت اور آنے کے اصل مقصد کا جائزہ لے کر کفار مکہ کو رپورٹ کریں۔(السیرۃ الحلبیہ جلد ۳ نصف اول صفحہ: ۶۲ - ۶۴) دوسرے اگر بس چلے تو ڈرا دھمکا کر اس قدر مرعوب کر دیں کہ وہ مکہ میں داخل ہونے کا ارادہ ترک کر کے از خود ہی الٹے پاؤں واپس لوٹ جائیں۔آنحضوں کی بے مثل فراست کا یہ کرشمہ تھا کہ ہر آنے والے کے مزاج کے مطابق طرز عمل اختیار فرماتے اور بجائے اس کے کہ وہ آنحضور ﷺ کو واپس لوٹ جانے پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہوتے خود ہی آنحضور ﷺ کے نہایت حکیمانہ طرز عمل سے متاثر ہو کر یہ یقین لئے ہوئے واپس لوٹتے کہ آپ کے ساتھ قریش مکہ زیادتی کر رہے ہیں اور آپ ﷺ کو بیت اللہ کے طواف سے روکنا نہ تو قرین مصلحت ہے نہ قرین انصاف۔قریش ان قاصدوں کا جواب سن کر یخ پا ہو جاتے ، انہیں برا بھلا کہتے ، ان پر آوازے کستے اور یہ عجیب قصہ ان کی سمجھ میں نہ آتا کہ کیوں ان کے سب سفیر اس حال میں واپس لوٹتے ہیں کہ ان کی بجائے محمد مصطفی ﷺ ہی کے وکیل بن چکے ہوتے ہیں اور الٹا قریش مکہ کو سمجھانے لگتے ہیں۔قریش کا تیسرا قاصد جلیس جو عرب کے ان مشہور تیرانداز قبیلوں کا سردار تھا جو احا بیش کہلاتے تھے ، جب حدیبیہ کے قریب پہنچا تو آنحضور اللہ نے اس کے مزاج کو سمجھتے ہوئے صحابہ کو ہدایت فرمائی کہ فوری طور پر قربانی کے اونٹوں کو ہانک کر اس کے سامنے کر دو تا کہ ہم تک پہنچنے سے صلى الله حبل الله پہلے وہ ان اونٹوں کو دیکھ لے۔آنحضور ﷺ کا یہ اقدام ایسا مؤثر ثابت ہوا کہ بخاری کی روایت کے مطابق اس نے صحابہ کی قربانیوں کو دیکھا اور صحابہ کو لبیک کرتے سنا تو اس نے بے اختیار ہو کر کہا سبحان اللہ یہ تو ایسے چہرے ہی نہیں جنہیں خدا کے گھر سے روکا جائے چنانچہ وہ آنحضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے بغیر ہی لوٹ گیا اور واپس جا کر قریش پر سخت اظہار افسوس کیا کہ حج کعبہ سے تم ان لوگوں کو روکتے ہو جو ہر گز لڑائی کا ارادہ نہیں رکھتے بلکہ کثیر تعداد میں قربانی کے لئے اونٹ لیکر آرہے ہیں۔یہ بات سن کر حسب سابق قریش نے اس پر بھی آوازے کسنے شروع کر دیئے اور یہاں