خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 415 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 415

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 415 غزوات النبی اے میں خلق عظیم (غزوہ حدیبیہ ) ۱۸۹۱ء تک کہا کہ اجڈ آدمی تم ان باتوں کو کیا سمجھو آخر تم برو ہی نکلے۔اس سلوک سے جلیں بھی سخت مشتعل ہو گیا اور اس نے کہا میں نے تم سے ہر گز کوئی ایسا معاہدہ نہیں کیا کہ محمد (ﷺ) کو حج کعبہ کرنے سے روکنے میں تمہاری مدد کروں گا پس میرا تم سے کوئی تعلق نہیں اور میں اپنے تمام قبائل کو لے کر اس معاملہ سے الگ ہوتا ہوں۔قریش نے اس دھمکی پر پشیمان ہو کر اسے تو منت سماجت سے بہلا پھسلا کر ٹھنڈا کیا اور اپنی طرف سے سفارت کا حق ادا کرنے کے لئے بہتر آدمی کی تلاش کرنے لگے۔چنانچہ ان کی نظر انتخاب عروہ بن مسعود پر پڑی۔پہلے تو عروہ گزشتہ سفیروں کے ساتھ قریش کی بدسلوکی کا حال دیکھ کر سفارت پر آمادہ نہ ہوا لیکن جب قریش نے اسے یقین دلایا کہ وہ ہرگز اس سے کوئی ناپسندیدہ سلوک نہیں کریں گے تو وہ بالآخر مان گیا۔عروہ نے اپنی دانست میں قریش کی سفارت کا خوب حق ادا کیا لیکن سب سفیروں سے زیادہ احمقانہ بات اسی کو سو جھی۔چنانچہ آنحضور ﷺ کو خائف کرنے کے لئے بڑے ہمدردانہ رنگ میں یہ سمجھانے لگا کہ قریش لاکھ دشمن ہو چکے ہوں آخر آپ ہی کا خون ہیں۔یہ مختلف انواع کے لوگ جو آج آپ کے گردا کٹھے ہیں کل کلاں جب آپ کا ساتھ چھوڑ دیں گے تو بالآخر آپ کو قریش ہی کی طرف لوٹنا پڑے گا اس لئے قریش کی بات ماننے میں آپ ہی کی بھلائی ہے۔یہ احمقانہ بات عروہ کے منہ سے سن کر صحابہ کے تن بدن میں آگ لگ گئی لیکن ان کے دل کی ترجمانی کسی قدر تحمل کے ساتھ حضرت ابو بکر نے کی اور اسے بتایا کہ یہ وہم دل سے نکال ڈالو کہ محمدمصطفی ﷺ کے غلام محمد مصطفیٰ ابوبکر کو بھی کسی حال میں بھی چھوڑ سکتے ہیں۔حضرت ابو بکر صدیق “ کے اس حوصلہ شکن جواب کے علاوہ عروہ کی آنکھوں نے کچھ اور نظارے بھی دیکھے جنہوں نے اس کے خیالات کو یکسر بدل دیا۔تعجب خیز نظارے السيرة الحلبه جلد ۳ نصف اول صفحه: ۶۴۶۲ عربوں کی عادت کے مطابق وہ دوران گفتگو بار بار اپنا ہاتھ آنحضور کی ریش مبارک کی طرف بڑھاتا تھا لیکن ہر مرتبہ اس کی اس حرکت پر پاس کھڑے ہوئے مغیرہ بن شعبہ اس کے بازو کو جھٹک دیتے تھے۔مغیرہ کی طرف سے یہ سلوک اس کے لئے خاص طور پر تعجب کا موجب بنا کیونکہ