خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 413 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 413

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 413 غزوات النبی میں خلق عظیم (غزوہ حدیبیہ ) ۱۸۹۱ء نیت سے نہیں بلکہ خالصہ حج بیت اللہ کے قصد سے اختیار کیا گیا تھا اس لئے لڑائی کے ساتھ ہی یہ مقصد فوت ہو جاتا اور یہ سارا سفر بے کار جاتا۔پس دشمن سے پہلو بچا کر گزر جانا کوئی جنگی چال نہ تھی بلکہ مقصد اعلیٰ کی حفاظت کے لئے ایک نہایت حکیمانہ فیصلہ تھا۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مکہ کے اتنا قریب پہنچ کر آپ حدیبیہ کے مقام پر کیوں ٹھہر گئے اور رکے بغیر کیوں نہ مکہ میں داخل ہو گئے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ دراصل حدیبیہ کے مقام پر پڑاؤ ڈالنے کا فیصلہ آپ کا اپنا نہیں تھا بلکہ خدا تعالیٰ کی تقدیر نے انگلی اٹھا کر آپ کو وہاں قیام پر مجبور کر دیا۔ہوا یوں کہ حدیبیہ پہنچ کر آپ کی اونٹنی بیٹھ گئی اور کسی طرح اٹھنے پر آمادہ نہ ہوئی۔(السیرۃ الحلبیہ جلد ۳ نصف اول صفحہ: ۶۰) قافلہ میں شامل بعض اصحاب نے اسے شگون سمجھا مگر آنحضور ﷺ نے فرمایا کہ نہیں ! اس اونٹنی کو اسی خدا نے بٹھایا ہے جس نے اصحاب فیل کو مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا تھا۔اس جزوی مماثلت کے بیان سے صحابہ پر یہ واضح کرنا مقصود تھا کہ تمہیں خونریزی سے مکہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی لیکن بلا شبہ اپنے رب کی زبان کو جس طرح آنحضور ﷺ سمجھتے تھے اور کون سمجھنے کی مقدرت رکھتا تھا۔پس آپ کا اس وادی میں قیام کا فیصلہ فرمانا تقدیر الہی کے تابع ایک فعل تھا۔اس قافلہ میں چونکہ غیر مسلم عرب قبائل کے بعض نمائندگان بھی شریک تھے اس لئے ہو سکتا ہے کہ ان میں سے کسی کے دل میں شبہ گزرتا کہ آنحضور ﷺ کا یہ فیصلہ تقدیر الہی کے نتیجہ میں نہیں بلکہ محض ایک اتفاقی حادثہ یا شگون ہے۔پس بہت جلد اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندے کی تائید میں ایک ایسا چمکتا ہوا نشان ظاہر ہوا جو تو ہمات کے اندھیروں کو روشنی میں بدلنے والا تھا۔ہوا یوں کہ حدیبیہ کا کنواں جس کی طرف وہ میدان منسوب ہوتا ہے وہاں پانی کے حصول کا واحد ذریعہ تھا لیکن اس میں پانی اتنا تھوڑا تھا کہ چند آدمیوں کی ضرورت کا کفیل بھی نہ ہوسکا اور کنواں سوکھ گیا۔اس پر صحابہ پریشان ہوئے کہ پانی کے بغیر زندہ کیسے رہیں گے؟ آنحضور ﷺ سے جب اس پریشانی کا ذکر کیا گیا تو آپ نے دعا کے ساتھ اپنے ترکش سے ایک تیر نکال کر دیا کہ اس کنوئیں کی تہہ میں اسے گاڑ دو۔چنانچہ اس ارشاد کی تعمیل کی گئی اور مسرت بھری حیرت سے سب نے یہ ماجرا دیکھا کہ جہاں تیرگاڑا گیا وہیں سے پانی کا بھر پور چشمہ ابل پڑا جو اہل قافلہ کی تمام ضروریات کا کفیل ہو گیا۔(السیرۃ الحلبیہ جلد ۳ نصف اول صفحه : ۶۰) صل الله