خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 402
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 402 غزوات النبویہ میں خلق عظیم ( غزوہ احزاب ) ۰۸۹۱ء قال موسى بن عقبه و امر کعب بن اسد بنو قريظه حي بن اخطب ان يا خذ لهم من قريش و غطفان رهائن۔تكون عند هم لئلا ينا لهم ضيم انهم رجعوا ولم يناجزوا محمداً قالواو تكون الرهائن سبعين رجلا من اشرا فهم فنا زلهم حتى على ذالك۔فعند ذالک نقضوا العهد و مزقوا الصحيفة التي كان فيها العقد الا بنى سعنة اسد و أسيد وثعلبه فانّهم خرجوا الى رسول الله صلعم۔(البداية والنهاية لابن كثير تي يمس من الهجرة النبوية غزة خندق ، جزء ۴ صفحه : ۱۰۳) ابن کثیر لکھتے ہیں کہ اس وقت یہود نے یہ مطالبہ کر دیا تھا کہ کفار اس امر کی ضمانت کے طور پر کہ وہ مسلمانوں کو مکمل طور پر کچلے بغیر واپس نہیں جائیں گے اپنے ستر بڑے آدمی بنو قریظہ کے پاس بطور یر غمال رکھوائیں۔چنانچہ کی بن اخطب نے گر کر اس مطالبہ کو منظور کر لیا۔یہ روایت نعیم والے قصہ کی جڑیں کاٹ کر رکھ دیتی ہے اور بتاتی ہے کہ یرغمالیوں کا مطالبہ تو خود یہودیوں کی طرف سے ابتداء ہی میں کیا گیا تھا نہ کہ کسی نعیم کی لگائی بجھائی کے نتیجے میں۔دوم: کسی مرفوع متصل روایت میں یہ ذکر نہیں ملتا کہ آنحضور نے نعیم کو دھوکہ سے مسلمانوں کی مدد کرنے کا ارشاد بھی فرمایا ہو۔اسماء الرجال کی مستند کتاب ” اسد الغابہ میں خود نعیم کے بیٹے کی اپنے باپ سے جو روایت درج ہے اس میں تو مضمون ہی بالکل مختلف بیان ہوا ہے۔اس کی رو سے نعیم جب آنحضور کی خدمت میں مخفی طور پر حاضر ہوا تو یہ عرض کی کہ میں مسلمان ہوتا ہوں : واستاذن النبي ان يخذل الكفّار یعنی آنحصوں سے اس امر کی اجازت چاہی کہ وہ کفار سے الگ ہو جائے یا ان کی مدد صلى الله سے ہاتھ کھینچ لے اس کے جواب میں آنحضور ﷺ نے فرمایا۔خَذَلٌ مَا اسْتَطَعْتَ فَإِنَّ الْحَرْبَ خُدُعَة۔یعنی جہاں تک تیرا بس چلے ان سے الگ رہ لڑائی کے دوران چالیں چلی ہی جاتی ہیں۔(اسد الغابہ ذکر نعیم بن مسعود ) اس روایت سے تو یہ پتا چلتا ہے کہ نعیم نے محض اپنی ذات کے بارہ میں کفار سے علیحدگی