خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 352 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 352

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 352 غزوات النبویہ میں خلق عظیم (غزوہ احد )۹۷۹۱ء اور وہ رضا بتائے تو بس یہی کہ میں بار بار تیرے رسول کے پہلو میں جہاد کروں اور بار باراسی حالت میں قتل کیا جاؤں۔بہن دیکھو تو ہنڈ جیسی بلند حوصلہ اور عالی مرتبت۔ایسی فدائے پائے رسول کہ خاوند اور بھائی اور بیٹے کی لاشیں اونٹ پر لادے ہوئے الحمد الحمد کا ورد کرتی ہوئی گھر کو جاتی ہے کہ محمد مصطفی تو خیریت سے ہیں۔بظاہر یہ واقعات ان صحابہ کی سیرت کی عکاسی کر رہے ہیں لیکن چشم بینا سے دیکھو تو ان کے ہر قطرہ خون میں محمد مصطفی کا سورج بڑی دلربائی سے چمکتا ہوا دکھائی دے گا۔یہ سیرت محمدی کا جلوہ ہی تو تھا جس نے عرب کی تاریک دنیا کو بقعہ نور بنا دیا۔رات کی تاریکی میں جب شمع روشن ہوتی ہے تو پروانے زمین کا سینہ چیر کر بھی باہر نکل آتے ہیں اور اس حسن کی آگ میں جل جانے کو سعادت جانتے ہیں۔میرے آقا محمد مصطفی نے جب عربوں کو زندہ کیا تو وہ لاشے ہی تو تھے لیکن جب وہ مردوں سے جی اٹھے اور جب نور محمدی کو جلوہ گر دیکھا تو قبروں کے سینے پھاڑ کر باہر نکل آئے اور پروانوں کی طرح اس کی طرف اپنی جانوں کے نذرانے لئے ہوئے دوڑے۔کسی کڑے وقت میں قوم کے کردار کی عظمت دراصل رہنما کے کردار کی عظمت ہی کی شہادت دیا کرتی ہے۔غزوہ احد میں چند ایسی ساعتیں بھی آئیں کہ ان جیسی کڑی اور حوصلہ شکن ساعتیں شاذ ہی قوموں کی زندگی میں آئی ہوں گی۔تاریخ عالم گواہ ہے کہ کبھی کسی قوم نے ایسے کڑے وقتوں میں اپنے آقا کی عظمت کردار کو ایسا خراج تحسین پیش نہیں کیا جیسا کہ حضرت محمد مصطفی کے عشاق نے آپ کے حضور پیش کیا۔ان کے خون کے ایک ایک قطرے نے گواہی دی کہ محمدمصطفیٰ سب حسین انسانوں سے بڑھ کر حسین اور سب بچوں سے بڑھ کر سچے ہیں۔ان گواہوں میں آپ کے قریبی رشتہ دار بھی تھے اور وہ بھی جن کا آپ سے خون کا کوئی رشتہ نہ تھا۔ان میں وہ بھی تھے جو رشتہ میں بڑے اور اوپر کی نسل کے تھے اور وہ بھی تھے جو برابر کا رشتہ رکھتے تھے اور وہ بھی تھے جو بیٹوں کی طرح تھے۔ان میں بوڑھے بھی تھے اور جوان بھی تھے اور بچے بھی ، ان میں مرد بھی تھے اور عورتیں بھی۔وہ آخری سانس تک اسی طرح آنحضور کی صداقت کے گواہ تھے جیسے آسائش کی پر امن گھڑیوں میں جانکنی کی حالت میں بھی اکھڑے اکھڑے سانسوں کے ساتھ انہوں نے حضور اکرم پر درود بھیجے اور دعائیں کیں کہ اے خدا! جس کے طفیل ہمیں یہ