خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 348
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت حکم وعدل 348 غزوات النبوی ﷺ میں خلق عظیم ( غزوہ احد )۹۷۹۱ء عمرو بن جموح اور بیٹوں کا مقدمہ آنحضور کی عدالت میں ایک فیصلہ۔ایک تفسیر لَيْسَ عَلَى الْأَعْلَى حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْأَعْرَجِ حَرَج وَلَا عَلَى الْمَرِيضِ حَرَجٌ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُدْخِلْهُ جَنَّتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهرُ (ال): ۱۸) ترجمہ : نہ تو کسی اندھے پرسختی ہے اور نہ لنگڑے اور بیمار پرسختی ہے ( کہ وہ باوجود معذوری کے لڑائی میں شامل ہوں ) اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے وہ ایسی جنتوں میں داخل ہوگا جس کے نیچے نہریں بہتی ہوں۔آپ کی حیثیت محض ایک عام سپہ سالار کی نہ تھی بلکہ جہاد صغیر کے ساتھ ساتھ آپ منصب رسالت کے دیگر فرائض بھی برابر سرانجام دے رہے تھے۔جہاد سے معذوروں کو رخصت کا مسئلہ جنگ احد کے آغاز میں اس شکل میں پیش آیا کہ ایک لنگڑے صحابی حضرت عمرو بن جموح کی اپنے بیٹوں سے تکرار ہو گئی۔یہ چار بیٹے جن کے متعلق آتا ہے کہ شیروں کی طرح لڑا کا اور دلیر جوان تھے باپ کو جہاد میں شمولیت سے روکے ہوئے تھے کہ تم لنگڑے ہو اور تم پر جہاد فرض نہیں اور کہتے تھے کہ تمہاری جگہ ہم جو جانیں دینے کے لئے حاضر ہیں۔حضرت عمرو بن جموح نے ان کی ایک نہ سنی اور جب دیگر صحابہ نے بھی بیٹوں کی طرفداری میں حجت بازی کی تو فرمانے لگے واہ ! یہ بھی کوئی بات ہے کہ بیٹے تو جنت میں چلے جاویں اور میں تم ایسوں کے پاس بیٹھا رہ جاؤں۔معلوم ہوتا ہے کہ ان کی طبیعت میں نہایت لطیف اور پاکیزہ مزاح پایا جاتا تھا۔چنانچہ یہ جھگڑا جب آنحضور کی خدمت اقدس میں پہنچا تو اپنے مخصوص انداز میں حضور کا دل اپنی طرف مائل کرنے کے لئے عرض کیا حضور ! میرا تو دل چاہ رہا ہے کہ اپنی اس لنگڑی ٹانگ سے جنت کی سرزمین میں کھیلتا کودتا پھروں۔یہ سن کر حضور کا دل پسیج گیا۔بچوں کو یہ نصیحت فرمائی کہ تمہیں باپ پر اس بارہ میں زبردستی کا کوئی حق نہیں اور عمرو بن جموح سے فرمایا کہ جہاد تم پر فرض نہیں لیکن میں منع بھی نہیں کرتا۔شروح الحرب ترجمه فتوح العرب صفحه : ۳۵۲)