خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 347 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 347

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 347 غزوات النبی ﷺ میں خلق عظیم ( غزوہ احد )۹۷۹۱ء پاس تھی نہیں دعا اور روحانی برکت سے غزوہ بدر کی طرح غزوہ احد میں بھی متعد دمریضوں کو شفا بخش رہے تھے۔کہیں دعا کرتے ، کہیں زخموں پر لعاب دہن لگاتے ، کہیں جراحی فرماتے جبکہ ہاتھ میں کوئی اوزار بھی نہ تھا۔حضرت قتادہ بن نعمان کی آنکھ میں مشرکوں کا ایک ایسا تیر آلگا کہ جس سے آنکھ باہر نکل کر کلے پر لٹک گئی۔قتادہ خود بیان فرماتے ہیں کہ اس حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میری زوجیت میں ایک عورت ہے کہ وہ بہت نوجوان اور صاحب حسن و جمال ہے میں خود بھی اس کو بہت چاہتا ہوں اور وہ بھی مجھے بہت چاہتی ہے۔اس لئے مجھے اس بات کا خدشہ ہے کہ میری آنکھ کبھی اس کو مکروہ اور نازیبا معلوم ہونے لگے۔چنانچہ آپ نے اس کی آنکھ کے ڈھیلے کو اپنے دست مبارک سے اٹھا کر اس کی آنکھ میں رکھ دیا تو وہ فوراً بینا ہوگئی اور جیسی تھی وہ ویسی کی ویسی ہوگئی۔بعض روایات میں آتا ہے کہ وہ آنکھ ہمیشہ دوسروں کی نسبت زیادہ روشن اور صاف رہی۔( شروح الحرب ترجمه فتوح العرب صفحه : ۳۲۴، ۳۲۵) یہ واقعہ بھی شدید جنگ کے دوران پیش آیا جب دشمن چار طرف سے حضور کو گھیرے میں لئے ہوئے تھا لیکن صحابہ کو بھی ذرا دیکھو کہ کس طرح ہر مصیبت میں حضور کی طرف دوڑتے اور حزن و غم میں حضور سے راز دل کہہ کر غمخواری کی توقع رکھتے۔کوئی دنیا کا جرنیل ہوتا تو اس کڑے وقت میں ایسی بات کرنے والے کو ذلیل و خوار کر کے دھتکار دیتا لیکن حضور نے دیکھو! کس اطمینان سے اس کی بات سنی اور کس دل سے اس کا غم محسوس فرمایا اور اس نو بیا ہتا عورت پر رحم کیا جس کی محبت کو شدید آزمائش در پیش تھی۔پس یہ رحمۃ للعالمین کی قلبی کیفیت ہی تھی جس پر نظر ڈال کر شافی مطلق نے یہ عجیب معجزہ دکھایا۔یہ باتیں آنحضور ہی کی ذات سے وابستہ تھیں۔اب کہاں یہ دن دیکھنے میں آئیں گے۔جنگ احد کی سرگزشت اب کبھی دہرائی نہ جائے گی۔ہاں اس کے ذکر کا سوز ہمیشہ دلوں کو درود کے لئے نرم کرتا اور پگھلاتا رہے گا اور جہاد کے ان نئے میدانوں کی طرف دعویداران محبت کو بلاتا رہے گا جو اسلام کے آخری غلبہ کے لئے روئے زمین پر جابجا کھل رہے ہیں اور کھلتے رہیں گے۔