خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 346 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 346

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 346 غزوات النبی میں خلق عظیم ( غزوہ احد )۹۷۹۱ء بڑی باریک نظر سے صحابہ کی تربیت فرمارہے تھے۔گویا جنگ احد کا میدان نہیں اخلاقیات کی درسگاہ کھلی تھی۔صلہ رحمی کا اس حد تک خیال تھا کہ بیٹے کو باپ اور بھائی کو بھائی کے قتل کی اجازت نہ دی۔ابو عامر کفار کی طرف سے لڑ رہا تھا لیکن اس کے بیٹے حضرت حنظلہ اسلام لا چکے تھے۔انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے باپ کے مقابلہ میں لڑنے کی اجازت مانگی لیکن رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ گوارا نہ کیا کہ بیٹا باپ پر تلوار اٹھائے۔(سیرة النبی از شبلی نعمانی جلد نمبر صفحه: ۳۵۳) عتبہ وہ بد بخت انسان تھا جس نے شدید حملہ کر کے حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے نیچے کے دو دندان مبارک شہید کئے اور دہن مبارک کو سخت زخمی کر دیا۔عقبہ کے بھائی حضرت سعد بن ابی وقاص مسلمانوں کی طرف سے لڑ رہے تھے جب ان کو عتبہ کی بدبختی کا علم ہوا تو جوش انتقام سے ان کا سینہ کھولنے لگا اور فرماتے ہیں کہ میں اپنے بھائی کے قتل پر ایسا حریص ہورہا تھا کہ شاید کبھی کسی اور چیز کی مجھے ایسی حرص نہ لگی ہو۔دو مرتبہ دشمن کی صفوں کا سینہ چیر کر اس ظالم کی تلاش میں نکلا کہ اپنے ہاتھ سے اس کے ٹکڑے اڑا کر اپنا سینہ ٹھنڈا کروں مگر وہ مجھے دیکھ کر ہمیشہ اس طرح کترا کر نکل جاتا تھا جس طرح لومڑی کترا جایا کرتی ہے۔آخر جب میں نے تیسری مرتبہ اس طرح گھس جانے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم براہ شفقت مجھ سے فرمانے لگے کہ اے بندہ خدا! تیرا کیا جان دینے کا ارادہ ہے چنانچہ میں حضور کے روکنے سے اس ارادہ سے باز رہا۔شروح الحرب ترجمه فتوح العرب صفحه: ۳۲۸، ۳۲۹) اس واقعہ میں حضور کا روکنے کا انداز بہت معنی خیز ہے۔آنحضور کی محبت اس وقت حضرت سعد کے دل میں ایسا جوش مار رہی تھی کہ یہ کہہ کر روکنا کہ بھائی بھائی کو قتل نہ کرے اقتضائے حال سے منافی تھا پس آپ نے بڑے پیار سے صرف اتنا فرمایا ” بندۂ خدا! کیوں جان گنواتے ہو۔“ روحانی و جسمانی طبیب یہ عجیب میدان جنگ تھا کہ سپہ سالار بھی آپ ہی تھے، مونس و غم خوار بھی آپ اور معالج بھی آپ ہی تھے اور امراض روحانی کے ساتھ ساتھ امراض جسمانی کی شفا کا کام بھی جاری تھا۔دوا تو کوئی