خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 345 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 345

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 345 غزوات النبی ﷺ میں خلق عظیم ( غزوہ احد )۹۷۹۱ء سر پر منڈلا رہے تھے اس وقت بھی حضوراکرم نے تعلیم اخلاق کا کام نظر انداز نہ فرمایا۔اپنے غلاموں کو جسمانی خطرات سے متنبہ فرماتے جاتے تھے اور روحانی خطرات اور لغزشوں سے بھی صحابہ کو فوجی قیادت کے ساتھ ساتھ اخلاقی اور روحانی قیادت کے فرائض بھی ادا کئے جارہے تھے۔میدان وغا میں تعلیم کتاب ، دوران جنگ میں تربیت کا کام بھی جاری تھا۔رشید فارسی جو قبیلہ بنی معاویہ کے ایک غلام تھے۔انہوں نے مشرکوں میں سے ایک جری پہلوان پر حملہ کیا جو قبیلہ بنی کنانہ میں سے تھا۔یہ مشرک سرا پا لو ہے میں ڈھکا ہوا تھا اور حضرت سعد کے ایک ہی وار میں دوٹکڑے کرنے کے بعد یہ فخریہ نعرہ لگا رہا تھا کہ میں ابن عویمر ہوں۔حضرت رشید نے اس پر ایک بھر پور وار کیا جس سے اس کے دوٹکڑے ہو گئے اور ساتھ ہی یہ نعرہ مارا کہ اس وار کوروک کہ میں رشید ایک فارسی غلام ہوں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کا مقابلہ دیکھ رہے تھے چنانچہ آپ نے حضرت رشید کا یہ کلمہ سن کر کہ میں غلام فارسی ہوں ناپسند کیا اور یہ فرمایا کہ تو نے اس کی بجائے یہ کیوں نہ کہہ دیا کہ لے اس کو روک میں ایک غلام انصاری ہوں۔معلوم ہوتا ہے کہ حضور کے اس ارشاد پر حضرت رشید فارسی کے دل میں سخت ندامت پیدا ہوئی پس اللہ نے ان پر کرم کی نظر فرمائی اور ان کو یہ حسرت پوری کرنے کا موقع دے دیا کہ کاش میں نے ابن عویمر کو مارتے ہوئے حضور کی مرضی کے مطابق نعرہ لگایا ہوتا۔ابھی حضور کا یہ فقرہ ختم ہوا تھا کہ اچانک ابن عویمر کا بھائی کتوں کی طرح دوڑتا ہوا آگے بڑھا اور حضرت رشید پر حملہ کرتے ہوئے یہ نعرہ مارا کہ دیکھ میں بھی ابن عویمر ہوں۔حضرت رشید نے اس پر شدید حملہ کیا اور اس خود سر کے سر پر بھی تلوار ماری جس سے اس کا سر دوٹکڑے ہو گیا اور مارتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے مطابق اس سے کہا لے اس وار کو روک اور دیکھ میں ایک غلام انصاری ہوں۔یوں لگتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے فلم پیچھے کر کے وہیں سے دوبارہ چلادی ہوتا کہ غلطی کی اصلاح کا موقع مل جائے اور ایک اور ا بن عویمر سامنے لاکھڑا کیا۔رشید نے یہ کہہ کر حضور اکرم کی طرف دیکھا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ذرا تبسم فرمایا اور فرمانے لگے اے ابو عبداللہ ! شاباش ! تو نے اچھا کیا کہ یہ کہا میں انصاری غلام ہوں۔“ ( شروح الحرب ترجمه فتوح العرب صفحه: ۳۴۸) دوران جہاد ظاہری فتح و شکست کی نسبت حضور کی نظر اخلاقی فتح وشکست پر کہیں زیادہ تھی اور