خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 344
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 344 غزوات النبی ﷺ میں خلق عظیم ( غزوہ احد )۹۷۹۱ء چنانچہ آپ کے فرمانے کے بعد میں اس کے آگے ہوئی اور اس کی پنڈلی پر ایک تلوار رسید کی جس سے وہ گر پڑا۔اس وقت میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری اس واردات کو دیکھ کر خوب ہنسے یہاں تک کہ آپ کے سامنے کے دانت بھی کھل گئے اور مجھ سے فرمانے لگے ”اے ام عمارہ! آخر تو نے بدلہ لے ہی لیا۔(شروح الحرب ترجمه فتوح العرب : ۳۶۰ - ۳۶۱) زور سے ہنسنا آنحضور کی عادت یہ تھی صرف تبسم فرماتے تھے۔لیکن احد کے روز آپ کا ہنسنا آپ کی ایک خاص شان دلربائی تھی۔یہ بنسی در اصل خوف و ہراس کی ناکامی کی دلیل تھی۔ہولناک خطرات کے مقابل پر یہ آپ کے عزم و ہمت کی فتح کا ایک اعلان تھا۔ام عمارہ کی یہ روایت آنحضور کی حکمت اور فراست پر بھی بڑے دل نشین انداز میں روشنی ڈالتی ہے۔آنحضور جانتے تھے کہ حضرت ام عمارۃ زخموں سے چور ہیں اور بدن کمزور پڑ چکا ہے۔پس ایسی حالت میں وہی حملہ آور جو پہلے ہی انہیں زخمی کر کے نفسیاتی برتری حاصل کر چکا ہو اور فن حرب کے ہر پہلو میں فوقیت رکھتا ہو اگر دوبارہ سامنے آئے تو اس کا ایک نفسیاتی رعب پڑنا طبعی بات تھی۔وہ ایک عورت کے مقابل پر مرد تھا، ایک زخمی کے مقابل پر تنو مند تھا، ایک پیدل کے مقابل پر سوار تھا، ایک سادہ کپڑوں میں ملبوس بی بی کے مقابل پر جو کئی جوان بچوں کی ماں تھی ایک زرہ پوش ہٹا کٹا جوان تھا۔اس وقت صرف ایک ہی صورت اس کمزور بے کس تھکی ماندی عورت کی بجھی بھی ہمت بڑھانے کی ہو سکتی تھی کہ اس کی زخمی ذات کی بجائے اس کی زخمی مامتا کو پکارا جائے۔پس آنحضور نے ایسا ہی کیا اور یہ فرما کر کہ دیکھ تیرے بیٹے کو زخمی کرنے والا پھر آرہا ہے ایک ایسا کچو کا اس کی زخمی مامتا کو لگایا کہ وہ بھری ہوئی شیرنی کی طرح ابھری اور اس تن نازک میں وہ آگ سی لگ گئی جو ممولوں کو شہباز سے لڑا دیا کرتی ہے۔حضور پر ہمارا ذرہ ذرہ قربان ہو کہ کس شان کے سپہ سالار اور کس شان کے انسان تھے ! علم النفس پر کیسی باریک نظر تھی اور اپنے حواس پر کیسا مکمل اختیار کہ اوسان خطا کرنے والے خطرات میں بھی تمام استعدادیں کامل سکون اور توازن کے ساتھ دل و دماغ کے عرش پر مستوی اور متمکن تھیں۔دوران قتال اخلاقی تعلیم علاج معالجہ حیرت کی بات ہے کہ جہاد بالسیف میں شدید مصروفیت کے باوجود جب مہیب خطرات