خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 343 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 343

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 343 غزوات النبی ﷺ میں خلق عظیم ( غزوہ احد )۹۷۹۱ء چنانچہ دوسرے ہی لمحے آنحضور کے اس بروقت اقدام کی برکت اس طرح ظاہر ہوئی کہ وہی ڈھال اُتم عمارہ کی جان بچانے کا موجب بن گئی۔یقینایہ اتفاق نہیں تھا بلکہ تصرف الہی کا کرشمہ تھا کیونکہ آنحضور کا ایک ایک لمحہ اللہ تعالیٰ کے تصرف میں تھا اور قدرت خداوندی آپ سے وہ کام دکھلا رہی تھی جو محض بشری طاقت سے ممکن نہ تھا۔آپ کے ایک عاشق تام حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کیا خوب کہا ہے: إِنِّي ارى فِي وَجْهِكَ الْمُتَهَدِّلِ شَانًا يَّفُوقُ شَمَائِلَ الْإِنْسَانِ آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحه : ۵۹۱) یعنی اے میرے محبوب آقا! یقیناً میں تیرے روشن چہرے میں وہ شان دیکھتا ہوں جو فوق البشر صفات اپنے اندر رکھتی ہے۔یہی وہ ام عمارہ ہیں جنہیں یہ فخر حاصل ہے کہ آنحضور پر حملہ کرنے والے بد بخت ابن قمئہ کا وارانہوں نے آگے بڑھ کر اپنے کندھے پر لیا چنانچہ ابن ہشام بیان کرتا ہے کہ: عین اس وقت جب کہ کافروں نے حملہ عام کر دیا اور آپ کے ساتھ صرف چند جاں مار رہ گئے تھے۔حضرت اُم عمارہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچیں اور سینہ سپر ہو گئیں۔کفار جب آپ پر بڑھتے تھے تو تیر اور تلوار سے روکتی تھیں۔ابن قمیہ جب دڑا تا ہوا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گیا تو حضرت ام عمارہ نے بڑھ کر رو کا چنانچہ کندھے پر زخم آیا اور غار پڑ گیا۔انہوں نے بھی تلوار ماری لیکن وہ دوہری زرہ پہنے ہوئے تھا اس لئے کارگر نہ ہوئی۔(سیرۃ النبی لا بن ہشام جزء ۴ صفحہ: ۳۰، ۳۶) اس معرکہ میں ام عمارہ کو اور بھی متعدد زخم لگے کیونکہ آنحضور کی جانب گھوڑ سوار بار بار حملے کر رہے تھے اور جہاں تک ان کا اور ان کے لڑکوں کا بس چلتا یہ ان کے سامنے سینہ سپر ہو جاتے چنانچہ ایک سوار ایک ہی جھپٹ میں ام عمارہ اور ان کے بیٹے دونوں کو زخمی کر گیا ایک دفعہ پھر پلٹ کر گھوڑا رض بڑھاتا ہوا حضرت ام عمارہ پر جھپٹا تو آنحضور ہی نے اس خطرہ سے انہیں متنبہ کیا۔حضرت ام عمارہ اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتی ہیں کہ اتفاق سے پھر وہی شخص جس نے میرے تلوار ماری تھی آگے بڑھا تو حضور نے فرمایا کہ اے ام عمارہ! دیکھ یہ وہی شخص ہے جس نے تیرے بیٹے کو تلوار ماری تھی۔“